خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 660

خطابات نور — Page 61

بھی یہ رازِ وحدت کام کررہاہے۔اگر وہ اعضا کسی مرکز کے متبع نہ ہوں تو مردہ اور بیکار ہوجاتے ہیں اگر یہ اعضا انسانی دوران دم قلب میں شریک نہیں ہوتے تو پھر تھوڑی دیر میں ان کا نتیجہ عام طور پر نظر آسکتا ہے کہ وہ قویٰ بیکارہوجاویں۔پس وحدت کی ضرورت ہے وحدت پیدا کرو اور اس کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ اسوہ ٔحسنہ کا کامل اتباع ہو۔یہ خیال کرنا اور سمجھ لینا ضروری بات ہے کہ جو مامور آوے وہ کوئی نہ کوئی نئی بات ہی سناوے۔یہ حماقت عظیم ہے۔انبیاء علیہم السلام تو اس صداقت کی نشوونما کے لئے آتے ہیں جو فطرت‘ قانون قدرت اور جستہ جستہ فقرات کتاب میں موجود ہوتی ہے اور ان کی غرض اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرنا اور گناہ کی موت سے بچانے کی تدابیر کا بتانا اور ایک وحدت پیدا کرنا ہوتی ہے۔اس مسئلہ کو حضرات صحابہؓ باریک نظر سے دیکھتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ کوئی امر بدون کسی جمعیت کے ہرگز حاصل نہیں ہوگا۔نادان قوم نے صحابہ کی باریک عقل کو نہیں پہچانا اور بعض ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان پر اعتراض کردیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد معاً کچھ لوگوں کو خلافت کی فکر پڑی وہ اعتراض کرنے کو تو اعتراض کرتے ہیں مگر نہیں جانتے۔مَنْ لَّمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ صحابہ اس اصل کو مانتے اور اس پر ایمان لاتے تھے۔اس لئے انہوں نے پہلے امام کا اقرار ضروری سمجھا کیونکہ اگر امام نہیں تو یہ کس طرح معلوم ہوتا کہ کہاں دفن کرنا ہے اور کیا کرنا ہے۔مختلف الرائے اور مختلف الخیال کے آدمی موجود تھے۔کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ‘ لیکن جب ایک امام ہوگیا اور اس کو قوم نے تسلیم کرلیا پھر کوئی امر متنازعہ باقی نہیں رہ سکتا تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۷؎ اس سے تو صحابہ کی او لوالعزمی اور ان کی فراست صحیحہ اور وحدت و یک جہتی کی خواہش صادقہ کا پتا ملتا ہے اور یہ فعل ان کا قابل تعریف ثابت ہوتا ہے مگر نادان معترض اس کو بھی اعتراض سے خالی نہیں چھوڑتا۔سچ ہے عیب نماید ہنرش در نظر کا معاملہ ہے۔