خطابات نور — Page 44
یہ امور اور یہ اصول سمجھ میں آتے ہیں۔جب انسان قرآن شریف میں تدبر کرے اور فکر کرے۔قرآن شریف پر تدبر اور فکر کی قوت پیدا ہوتی ہے تقویٰ سے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود فرما دیا ہے۔(البقرۃ : ۲۸۳) اور یہ میں نے ابھی بتایا ہے اور اس کی تفصیل بیان کروں گا کہ تقویٰ کی حقیقت منکشف نہیں ہوتی سچا متقی انسان بن نہیں سکتا جب تک صادقوں اور راست بازوں کی صحبت میں رہنے کا اس کو موقع نہ ملے اور ان کی معیت اختیار نہ کرے کیونکہ تقویٰ اللّٰہ کی حقیقت منحصر ہے اولاً اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پر اور یہ یقین بجز خدا تعالیٰ کے راست بازوں کی صحبت میں رہنے کے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس صحبت میں رہ کر وہ اللہ تعالیٰ کے عجائبات قدرت کو مشاہدہ کرتا ہے اور خارق عادت امور کو دیکھتا ہے جو انسانی طاقتوں اور ارادوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ان امو راور عجائبات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان پیدا ہونے لگتا ہے اور پھر اس کی صفات پر یقین آتا ہے جس سے تقویٰ اللّٰہ کی حقیقت اس پر کھلنے لگتی ہے اور وہ متقی بننے لگتا ہے۔پس سچے عقائد کے اصول میں سے پہلی اصل اللہ تعالیٰ کا ماننا اور اس کی صفات پر ایمان لانا ہے اور یہ میں نے بتایا ہے کہ یہ ایمان پیدا نہیں ہوتا جب تک صادق کی صحبت میں نہ رہے۔اب دوسرا امر عقائد کے متعلق یہ ہے کہ وہ ملائکہ پر ایمان لاوے۔۳؎ وجود ملائکہ کے ثبوت کے لئے مجھے کسی فلسفیانہ بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملائکہ کے وجود کے انکار سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر فیوض اور برکات خواہ جسمانی ہوں یا روحانی انسان اللہ تعالیٰ سے پاتا ہے اس کے لئے کچھ نہ کچھ وسائط ضرور ہیں ان وسائط ہی کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔اور انہیں سے ملائکہ بھی ایک نام ہے۔اس صداقت سے انکار ایسا ہی ہے جیساوجود آفتاب کا انکار۔ایمان بالملائکہ کی حقیقت اور غرض جو مجھے سمجھ آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے یہ راز معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں جب نیکی کی تحریک ہو معاً اس نیکی کے کرنے کے لئے مستعد اور ہوشیارہو جاوے اور اگر اس میں ذرا بھی سستی اور کاہلی سے کام لے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ وہ توفیق اس سے چھین لے گا اور اس کے دل پر ایک حجاب ساچھا جاتا ہے اسی طرح پر ایمان بالکتب ہے اور پھر رسولوں پر ایمان ہے۔