خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 660

خطابات نور — Page 475

 (ابراہیم :۲۵ تا ۲۸) فرمایا ایمان ہو یا کفر ہو، شرک ہو، فسق ہو، نفاق ہو ان کی مثال ایک درخت کی سی ہے۔ایمان کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہے اور کفر، شرک، فسق، نفاق وغیرہ کی مثال ایک خبیث درخت کی سی ہے جب وہ زمین میں بویا جاوے تو ایک لو نکلتی کوئی اس کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ گھاس جتنا ہو گا یا بڑ کے درخت جتنا ہو گا۔پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک زمانہ میں اپنی حقیقت خود بتا دے گا۔جب وہ بڑکا درخت ہو گا تو بڑ کی طرح بڑھے گا اور پھلے گا اور آخر بڑ ہی کہلائے گا اب اگر اس کے ایک دو پتّا توڑ ڈالو تو کیا کہہ دو گے کہ بڑ سوکھ گیا۔جب ہزار دو ہزار پتّا توڑ کر لے آئو گے تو اسی درجہ تک اس کی حیثیت کم ہو جائے گی پھر جب لاکھ دو لاکھ پتے اتار لو گے تو اور بھی گھٹے گا پھر جب اس کی ڈالیاں اور شاخیں کاٹ دو گے تو اور بھی۔دیکھو اونٹوں والے پیپل کے درخت کو کاٹ لیتے ہیں۔ڈالیاں کاٹنے سے ابھی درخت موجود ہوتا ہے اور جڑ کٹ جاوے تو کچھ نہیں رہتا۔اسی طرح کفر، شرک، فسق اور نفاق ہے۔ایک شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتا۔دوسرا کہے مانتا ہوں اس میں اللہ تعالیٰ کو ماننے والا مقدم ہے اب ایک اور ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے کے ساتھ ساتھ کہتا ہے بت کو بھی سجدہ کر لو مگر دوسرا کہتا ہے بت پرستی نہیں کرنی چاہئے۔اب یہ موحد اس مشرک کے مقابل میں مقدم ہے پھر ایک اور ہیں جو نبیوں کو مانتے ہیں اور دوسرے نہیں مانتے اب نبیوں کو ماننے والا منکر سے مقدم ہوگا۔ایک قوم ہے جو ادریس اور یحیٰ کو مانتی ہے قرآن شریف ان کو صابی کہتا ہے یہ قوم اب بھی ہے۔یہود بہت سے نبیوں کو مانتے ہیں مگر مسیح کا انکار کرتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو مسیح کا بھی اقرار کرتے ہیں۔پس جو مسیح کو مانتے ہیں وہ ان کے منکروں سے قریب ہو گئے۔پھر عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اقرار کر دیا۔ابوبکر ان سب سے افضل ہو گیا۔اب صحابہ، تابعین، تبع تابعین، اولیاء اللہ، چشتی ، قادری، سُہروردی ہوں یا نقشبندی ہوں، رفاعی ہوں یا احمدی ہوں ان میں راستبازوں کے ماننے والے اور ٹھٹھے کرنے والے اپنے مراتب رکھیں گے جو انکار راستباز کا کرتا جاوے گا وہ گرتا جاوے گا۔