خطابات نور — Page 454
کے موافق ایک ایک اینٹ رکھی اور بالآخر نواب صاحب نے رکھی۔اس موقع پر نواب صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ دامادوں کے متعلق تو بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں اس لئے آپ ضرور دعا کرکے اینٹ رکھ دیں۔میں دعائوں کا بڑا معتقد ہوں۔یہ کلمہ میاں شریف احمد صاحب کے اینٹ رکھنے پر فرمایا۔اس کے بعد آپ نے اور حاضرین نے دعا فرمائی بعد دعا فرمایا۔جس غرض کے لئے ہم آئے تھے خدا کے فضل سے ہم اس سے فارغ ہوچکے ہیں۔اب ہم آزاد ہیں۔ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ شیخ صاحب سے کہہ دو کہ ہم آپ کے کام سے فارغ ہوچکے اور حضرت صاحب کے وعدہ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے پورا کرچکے ہیں۔اب ہم آزاد ہیں خواہ صبح چلے جاویں یا شام کو۔( میں نے شیخ صاحب کو یہ پیام اسی وقت پہنچا دیا کیونکہ وہ پاس ہی موجود تھے۔یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور نہایت رقت بھرے لہجہ میں عرض کیا کہ جو غلام ہو اس کو آقا کو آزاد کرنے کی کیا جرأت۔(ایڈیٹر الحکم) اس پر فرمایا: مجھے قادیان سے باہر مزہ نہیں آتا۔میں کیا کروں میری حالت ہی ایسی ہے (چونکہ حضرت کے منشاء سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ۱۶ کی صبح کوہی چل دیں مگر احباب لاہور نے حضرت کے ایک عام لیکچر کا اعلان کیا تھا اس لئے میں نے عرض کیا کہ کل ۱۶ کی شام کو تو حضور کے ایک لیکچر کی تجویز ہے۔ایڈیٹر الحکم) فرمایا۔اچھا۔اس ضمن میں پھر از راہ کرم خاکسار ایڈیٹر کو فرمایا کہ میں نے ایک خاص رنگ میں قوم کو دعا کے لئے توجہ دلائی ہے۔اس عمارت میں قوم کا ایک حصہ ہے۔اس طرح یہ تقریب بعافیت ختم ہوئی۔سنگ بنیاد کی تقریر کے ضمن میں بعض ارشادات : سنگ بنیاد کی تقریب جب حضرت فرمانے لگے تو صاحبزادہ صاحب کو بلا کر اپنے پاس کھڑا کیا اور پھر نواب صاحب (جو پیچھے کھڑے تھے)کو بلا یا کہ آگے آئو۔ان میں ان کو کھڑا کیا اور پھر خود کرسیاں لانے کے لئے حکم دیا اور ان چہار بزرگوں کو اپنے سامنے بیٹھنے کا حکم دیا۔ان کو بیٹھنے میں تردد تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کھڑے ہیں۔فرمایا میں تو تمہاری خدمت کرتا