خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 453 of 660

خطابات نور — Page 453

کی طرف ہوئی جو میں نے پڑھی ہے کہ بعض عمارتوں کی بنیادیں تقویٰ پر ہوتی ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔یہ آیت مسجد نبوی کے متعلق ہے۔اس مسجد نبوی کے مقابلہ میں بھی ایک پتھر رکھا گیا تھا مگر انجام کیا ہوا؟ اس کو جڑھ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا اور وہ جگہ نجاست پھینکنے کا میدان بنا۔یہ لمبا قصہ ہے وقت اجازت نہیں دیتا کہ میں اس کو بیان کروں۔یہ تو ہماری سرکار ہمارے مقتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیاد رکھنے کا ذکر ہے۔اس سے بھی بہت پہلے ایک پتھر رکھا گیا تھا اور وہ وادٍ غیر ذی زرعٍ میں رکھا گیا جو ابوالملۃ ابراہیم نے رکھا تھا۔اس پتھر کے متعلق بہت وسیع باتیں ہیں۔وہ بنیادی پتھر اب تک موجود ہے اور حاجیوں کو تاکید ہے کہ وہاں چکر لگا کر ابراہیمی دعائیں کریں۔حضرت ابراہیم نے سات عظیم الشان دعائیں مانگی ہیں اور سات دفعہ چکر لگانے کا حکم ہے۔ہاجرہ وہاں سات دفعہ چلی ہے اور سات ہی وہاں نشان (آیات اللہ) ہیں۔اس عمارت کی بنیاد اسی تقویٰ اور رضا الٰہی پر رکھی گئی۔آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کیسی بابرکت ہے اور مدینہ طیبہ کی وہ عمارت جس کا پہلے ذکر کیا ہے۔آج دنیا پر اس کی وسعت پھیلی ہوئی ہے اور وہ بڑی ہی بابرکت ہے۔غرض مکّہ معظمہ کی عمارت بھی تقویٰ پر رکھی گئی اور مدینہ منورہ کی عمارت بھی۔میں اس عمارت کی بنیاد اسی نیت اور غرض سے رکھتا ہوں۔ہم اس وقت حضرت صاحب کے خاندان کے پانچ آدمی موجود ہیں۔(خلیفۃ المسیح، صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، صاحبزادہ بشیر احمد ، صاحبزاہ شریف احمد، نواب محمد علی خان صاحب) اور میں نے کہا ہے کہ ساری قوم کا اس عمارت میں حصہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ درد دل سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو بابرکت کرے اور شیخ صاحب جن سے ہم کو محبت ہے ان کی اولاد کو بھی ہمارے ساتھ محبت بخشے۔میں شکایت نہیں کرتا بلکہ دعا کے رنگ میں چاہتا ہوں کہ وہ ایسے ہوں۔وہ بڑے سفروں میں جاتے ہیں مگر ہم سے اس طرح پر نہیں ملتے جس طرح ان کے والد ملتے ہیں۔اب میں دعا کرکے ایک اینٹ رکھ دیتا ہوں پھر میرے بعد صاحبزادہ مرزا محمود اور بشیر اور شریف اور نواب صاحب دعا کرکے ایک ایک اینٹ رکھ دیں۔یہ فرما کر آپ نے ایک اینٹ لی اور نہایت توجہ الی اللہ کے ساتھ دعا کرکے اسے ایک مقام پر رکھ دیا اور پھر صاحبزادہ صاحبان نے ارشاد