خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 660

خطابات نور — Page 439

اس کے اجزا کو دیکھو جب تک باہم مل کر متحد نہیں ہو گئے اس سیاہی میں لکھنے اور نقش پذیر ہونے کی طاقت نہیں۔پھر قلم ہے اس میں آجکل کے قلم کو مدنظر رکھ کر دو تین جزو ہیں کچھ لکڑی ہے کچھ لوہا ہے یہ اجزا اگر باہم نہ ملیں تو قلم نہیں بن سکتا۔پھر قلم بھی ہو لیکن اگر سیاہی کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہو تو کچھ فائدہ نہیں قلم کسی شخص کے ہاتھ میں ہو اور وہ ہاتھ اس کو اس دوات تک لے جاوے اور پھر اس سیاہی سے کاغذ پر کچھ لکھے کاغذ کے مختلف اجزا کو دیکھو اور غور کرو پھر لکھنے کے لئے ہاتھ کی جنبش اور آنکھ کی بصارت اور دماغ کی قوت متفکرہ سے کام نہ لیا جاوے تو کچھ بھی نہیں۔اب تمام پراگندہ صورتوں پر غور کرو پھر ان کے اتحاد کو دیکھو وہ حالت منتشرہ میں کیا کچھ بھی مفید ہو سکتی تھیں؟ لیکن جب ان میں اتحاد اور اختلاط ہوا اور ایک مرکز پر جمع ہو گئیں تو اس سے کتابیں اور نہایت قیمتی تحریریں پیدا ہو گئیں۔یہ مضمون بجائے خود بڑا وسیع مضمون ہے اور اس پر غور کر کے نہایت مختصر الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ نظام عالم کی رونق اختلاف سے ہے جب جب وہ اختلاف ایک مرکز پر متحد ہو۔اپنے وجود پر غور کرو کس قدر مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے لیکن ان مختلف چیز وں کا اجتماع کیساخوبصورت بن گیا ہے۔اب تم سوچو کہ باوجودیکہ تمہارے رنگ وروپ تمہاری شکلیں، علوم، عقول، تعلیم، تربیت، سوسائٹی ، مطالعہ کی کتابیں اور خواہشیں جداجدا ہیں۔پھر تم دیکھو کہ کیوں اکٹھے ہو کر باہم ایک جگہ جکڑے گئے۔تناسخ والوں کو اس اختلاف نے غلطی میں ڈالا اور وہ اس اختلاف کو تناسخ کا نتیجہ سمجھ بیٹھے کاش وہ اس اختلاف کی حقیقت پر غور کرتے تو اس کثرت میں وحدت کا مزہ پاتے۔یہ خوب یاد رکھو کہ کثرت میں وحدت کی ضرورت ہے جب تک وحدت نہ ہو کثرت مفید ہی نہیں ہو سکتی۔دیکھو کلکتہ سے لے کر پشاور تک ایک شاہی سڑک ہے جس پر ریلیں دوڑتی ہیں۔اب تم غور کرو کہ یہ مختلف قطعات زمین مختلف لوگوں کے قبضہ میں تھے ایک طاقت جس کو گورنمنٹ کہتے ہیں آئی اور اس نے ان قطعات کو مختلف مالکوں سے لے کر ایک کی ملکیت میں شامل کر دیا تب اس کثرت میں وحدت پیدا ہو گئی۔پھر اینٹوں پتھروں اور مٹی کو مختلف جگہ سے لا کر اس پر جمع کیا بظاہر مختلف چیزیں جمع کر دیں مگر ان کو ایک سطح اور ایک ترتیب میں رکھ کر ایک سڑک کی شکل میں تبدیل کر دیا پھر لکڑی اور لوہے کو بچھا کر اور ایک خاص صورت سے انہیں ملا کر لائن بچھا دی اور سکۃ الحدید بن گئی پھر اس لائن پر گاڑیوں کو جمع