خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 660

خطابات نور — Page 440

کیا جن میں مختلف عقلوں اور ہاتھوں کے ذریعہ مختلف چیزوں لکڑی ،لوہا،رنگ وغیرہ کو ایک خاص شکل میں بنایا گیا وہ اختلاف بجائے خود قائم رہ کر وحدت کا رنگ پیدا ہو گیا۔پھرایک اور چیز جس کو انجن کہتے ہیں ان کے آگے لگا دیا پھر اس انجن میں آگ پانی کوئلہ رکھا گیا سب کی سب مختلف اور متضاد چیزیں تھیں مگر ایک خاص ترکیب سے ان کو ملایا تب ان سے بھاپ پیدا ہو کر حرکت کا موجب ہو گئی اب کلکتہ اور پشاور کے درمیان ریل گاڑی دوڑنے لگی۔جو فوائد اور آرام اس سے مل رہے ہیں وہ ظاہر ہیں مگر یہ سب کچھ کثرت فی الوحدت کا نتیجہ ہے۔اسی طرح پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ اختلاف کو رہنے دو مگر اس اختلاف کو وحدت کے مرکز کے نیچے لائوکہ یہ مفید اور کار آمد شیء بن جاوے۔ہمارے لوگ اختلاف کو تو ترقی دیتے ہیں مگر مرکز وحدت سے الگ ہو کر اس صورت میں یہ مفید نہیں بلکہ مضر ہوگا۔انسان کی ابتدائی حالت کے علوم : سنو! میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں قرآن کریم میں لکھا ہے۔(الدّھر :۲) انسان کی ہستی ہی کیا تھی کچھ بھی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ایک قطرہ سے ہاں ایک تھوڑی سی چیز سے بنا کر سمیع وبصیر بنا دیا ہے میں نے جب اس پر غور کیا ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرہ علوم پہلے ہی بتا دیئے ہیں۔ابھی کہتے کہتے معلوم ہوا کہ تیرہ نہیں بلکہ ۱۴ علوم نہ ماں سکھاتی ہے نہ باپ نہ کوئی اور ان میں سے بعض علوم یہ ہیں :۔اوّل دودھ کو چوسنے اور نگلنے کا علم ہے غور کرو کہ اگر کوئی بچے کو یہ علم سکھاتا تو کس طرح اور کس بولی میں سکھاتا۔(۲) پھر ایک اور علم ہے جو بدیہات کہلاتی ہیں۔(۳) بچہ کل اور جزو کو سمجھتا ہے۔ماں ایک چھاتی سے دودھ پلا رہی ہو اور ابھی اس میں باقی ہو جب وہ دوسری چھاتی پر لے جانا چاہے تو روتا ہے گویا کل اور جزو کو سمجھتا ہے۔ایسا ہی بچوں کو مٹھائی دے کر دیکھا ہے اگر سارے ٹکڑے میں سے آدھی کاٹ لی جاوے تو رو پڑتا ہے۔(۴) طول اور عرض کو بھی سمجھتا ہے۔(۵) اس بات کو سمجھتا ہے کہ دو مکان میں ایک جسم نہیں ہو سکتا۔ایک لڑکا اگر آجاوے تو اسے