خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 434 of 660

خطابات نور — Page 434

نور احمد کہہ دیتے ہیں کہ اس کو چھاپ دو۔میں دوستوں کو چوکس کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے پرہیز کرو ایسے لوگوں کی ایک جماعت ہے جو ایسے دعوے کرتے پھرتے ہیں۔ایک نے مجھے لکھا کہ اگر تم راستباز ہو تو مجھے اپنے جلسہ میں تقریر کرنے کی اجازت دو۔جب تک چاہوں بولتا رہوں اور یہ بھی لکھا کہ تمہارا سر اس لئے کچلا گیا کہ اور کتابیں پڑھتے ہو قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔میں نے اس کو لکھا کہ جب قرآن مجید کے سوا کچھ نہیں اور ہر شخص کو اس کا فہم دیا جاتا ہے تو تم کیا سمجھانے آئو گے؟ پھر مجھے لکھا کہ اجازت دو ورنہ حجت پوری ہو گئی۔خلیفۃ المسیح کا اعلان خلافت: میں اس مسجد میں قرآن ہاتھ میں لے کر اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے پیر بننے کی خواہش ہرگز نہیں اور نہ تھی اور قطعاً خواہش نہ تھی۔خدا تعالیٰ کے منشاء کو کون جان سکتا ہے اس نے جو چاہا کیا تم سب کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا اور اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کرتہ پہنا دیا۔میں اس کی عزت اور ادب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں باوجود اس کے میں تمہارے مال اور تمہاری کسی بات کا بھی روادار نہیں اور میرے دل میں اتنی بھی خواہش نہیں کہ کوئی مجھے سلام کرتا ہے یا نہیں۔تمہارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی کو دے دیا کرتا تھا مگر کسی کو غلطی میں ڈالا اور کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔تب میں نے محض خدا کی رضا کے لئے اس روپیہ کو دینا بند کر دیا کہ میں دیکھوں یہ کیا کر سکتے ہیں؟ ایسا کہنے والے نے غلطی کی نہیں بے ادبی کی۔اسے چاہئے کہ وہ توبہ کرے میں پھر کہتا ہوں کہ وہ توبہ کرلے، اب بھی توبہ کر لیں۔ایسے لوگ اگر توبہ نہ کریں گے تو ان کے لئے اچھا نہ ہو گا۔ایک وقت مجھ سے کسی نے مجھ سے جھگڑا کیا اس وقت کے بعد سے میں ایسے اموال ان کو دیتا نہیں جو مخصوص مجھے ہی دئیے جاتے ہیں۔ہاں میں انہیں ایک مد میں رکھتا ہوں اور اسے ایسی جگہ خرچ کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہ ہو۔میں اپنی ذات اور اپنے متعلقین کے لئے تمہارے کسی روپیہ کا محتاج نہیں ہوں اور کبھی بھی خدا تعالیٰ نے مجھے کسی کا محتاج نہیں کیا۔وہ اپنے غیب کے خزانوں سے مجھے دیتا ہے اور بہت دیتا ہے اور میں اب تک وہ کسب کر لیتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔یاد رکھو میں پھر کہتا ہوں کہ میں تمہارے اموال کا محتاج نہیں ہوں اور نہ تم سے مانگتا ہوں تم میرے پاس اگر کچھ