خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 660

خطابات نور — Page 398

جو ہوتے ہیں (البقرۃ :۶۳) ہوتے ہیں۔میں نے دیکھ لیا۔یہ ایمان میں کمزوری ہوتی ہے جو مومن ناامید ہوتا ہے یا یاس میں آجاتا ہے۔تیسرا مرتبہ: لا الٰہ الا اللّٰہ کا فائدہ وہ ہے جو احادیث صحیحہ میں میں نے پڑھا۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جناب الٰہی میں عرض کیا۔کوئی مجھے کلمہ سکھایا جاوے جو میری ترقیات کا موجب ہو۔الہام ہوا لا الٰہ الا اللّٰہ کہو۔کہا الٰہی جب سے میں نبی ہوا ہوں اسی کلمہ کی اشاعت کی کوشش میں ہوں جنابِ الٰہی سے الہام ہوا۔افضل الذکر لاالہ الا اللّٰہاس سے نئی کوئی بات نہیں۔یہ بات کہنے کو معمولی ہے مگر سارا قرآن شریف ٹٹول کر دیکھ لو۔قرآن شریف کے بعد تمام اولیاء کرام اور ان کے ملفوظات اور ان کی تصنیفات کو ٹٹولو۔ساری بڑائیاں سارے قرب سارے فضل ساری ان کی کرامتیں اسی لا الٰہ الا اللّٰہ کے وظیفے پر موقوف ہیں اس کا نام وہ نفی و اثبات کہتے ہیں اور رنگ برنگ الفاظ میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔جیسے محبوب کے چہرے کو تغزلات میں بیان کیا جاتا ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام، ایمان کے بعد احسان کا مرتبہ ہے۔اعبدوا اللّٰہ کانک تراہ فان لم یکن تراہ فانہ یراک۔اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھتے ہو اگر تم نہیں دیکھتے ہو تو وہ تو تمہیں دیکھتا ہے۔یہ ایک مقام ہے قرب الٰہی کا جو لا الٰہ الا اللّٰہ میں تدبر سے حاصل ہوتا ہے۔کچھ زمانہ مجھ کو گزرا ہے مجھ کو اللہ جل شانہ‘ نے لا الٰہ الا اللّٰہ کے معنے بتلائے کہ انسان غور کرے اس کی ہستی کیا ہے۔  (الدّھر :۲)۔انسان پر وہ زمانہ بھی گزرا ہے کہ وہ کچھ چیز نہ تھا۔اس عدم میں اس کی خواہش کیا مطالب کیا؟ جناب الٰہی کے فضل نے عدم سے موجود کیا۔(الدّھر :۳)۔خدا جانے کیوں درمیان اس وعظ کے نکتہ خیال میں آیا۔میں وعظ چھوڑ کر اس کے بیان کرنے میں معذور ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس تین آدمی آئے ایک کو جگہ مل گئی۔بیٹھ گیا۔دوسرے نے دیکھا جگہ نہیں، تو وہ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آواز نہ پہنچتی وہیں بیٹھ گیا۔تیسرے نے کہا آواز نہیں آتی۔یہاں کیا بیٹھنا چلا گیا۔نبی کریم کو جناب الٰہی سے الہام