خطابات نور — Page 346
اس کے ہاتھ سے لے لیا اور سب دودھ پی گیا غرضیکہ مجھ کو دودھ پینے کی مطلق عادت نہیں اور میں بالکل دودھ نہیں پیتا۔لیکن اب بھی دیکھو کہ کس قدر دماغی کام کرتا ہوں اور تمام تمام رات بیٹھ کر پڑھ سکتا ہوں۔یہ بالکل غلط خیال ہے کہ ہم دودھ پی کر ہی دماغی کام کر سکتے ہیں غرض جس لڑکے کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ جھوٹ کے ذریعہ سے پیسے حاصل کرتا ہے۔تم ہی میں سے ایک لڑکا ہمارے گھر میں آتا تھا ہمارے گھر والے بھی اس کے ساتھ سلوک کرتے رہتے تھے اس کو فضول خرچی کی عادت نے چوری پر مجبور کیا۔اوروہ ہمارے گھر سے زیور چرا کر لے گیا خدا کے فضل سے ہمارا زیور تو واپس آگیا۔لیکن اگر وہ لڑکا فضول خرچی کے سبب چوری کرنے کے گناہ میں مبتلا نہ ہوتا تو وہ بہت سے برکات اور تعلیمات سے محروم نہ ہوتا جیسا کہ اب اس کو اسکول بھی چھوڑ دینا پڑا۔اس لڑکے سے جب دریافت کیا کہ تیرے پاس یہ زیور کہاں سے آیا تو اس نے کہا کہ مجھ کو مسجد کے قریب پڑا ہوا ملا تھا۔دیکھو اس کو جھوٹ بھی بولنا پڑا۔تم میں سے غریبوں کو چاہئے کہ غریبانہ زندگی بسر کریں اور امیروں کی ریس ہرگز نہ کریں۔میرے بیان سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ میں دودھ کی مذمت اور برائی بیان کرتا ہوں بلکہ دودھ تو بہت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا اور فرمایا کرتے تھے اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ(روضۃ المحدثین جزء نمبر۱۰ صفحہ ۳۲۷) جن کو میسر ہے اور وہ پی سکتے ہیں میرا تو جی چاہتا ہے کہ وہ ضرور پیئیں لیکن جن کے پاس نہیں ہے وہ چوری نہ کریں‘ جھوٹ نہ بولیں‘ فضولی نہ کریں۔اگر تم کو اس وقت عادت پڑ جائے گی تو پھر اس کا چھوڑنا سخت دشوار ہو گا۔جھوٹ فضول خرچی چوری کی عادت بالکل نہ ڈالو اور بہت بچو۔میری ان باتوں کو یاد رکھو اور بہت ہی یاد رکھو۔اگر کوئی امیر ہے تو اپنے واسطے ہے غریبوں کو کیا ضرورت ہے کہ اس کی ریس کریں۔دوسری نصیحت میں تم کو یہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نماز نہ پڑھو گے تو بڑے ہو کر تو پھر بالکل ہی تم کو نماز کی عادت نہ رہے گی ہم مکتب میں پڑھا کرتے تھے ایک مرتبہ ہمارے استاد نے بچوں کو نماز پڑھنے کے واسطے مسجد میں بھیجا ہم میں ایک لڑکا تھا اس نے وضو کر کے کہا :یارو! کیسی نماز؟ کون نماز پڑھتا ہے یہ کہہ کر اس نے اپنی پیشانی پر مٹی ملی جس سے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ مسجد میں نماز