خطابات نور — Page 329
اتنا بڑا کارخانہ ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔آنکھ کی بناوٹ پر غور کریں تو یہ ایک اور ہی دنیا ہے۔سبز دیکھنے کے لئے اور ہی ڈورے ہیں۔سرخ دیکھنے کے لئے الگ۔غرض مختلف رنگوں کے دیکھنے کے لئے مختلف اعصاب ہیں اور وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں اپنا جدا جدا کام کررہے ہیں۔بہت سے لوگ ہمارے پاس علاج کے لئے آئے ہیں جو کوئی ایک رنگ نہیں دیکھ سکتے تھے۔غرض یہ بھی ایک بڑا سلسلہ ہے پھر دیکھو کہ ایک شخص تیز دوڑتا ہوا جارہا ہے۔راستہ میں کوئی ٹھوکر کا پتھر آتا ہے تو اس تیزی کے ساتھ پائوں کے پٹھے کو حکم ہوتا ہے اور وہ فوراً اپنا پہلو بدل کر اس سے بچ کر نکل جاتا ہے۔یہ محسوسات کا تماشا ہے۔ربّانی فیض کا منبع: مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیضان آتے ہیں۔ڈاکٹروں کی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی اور وہ نہیں جانتے کہ اس کا منبع کیا ہے؟ اس لئے کہ ان کی نگاہ محسوسات سے آگے نہیں جاسکتی۔ان علوم کے وارث اور عالم وہ لوگ ہوجاتے ہیں جو انبیاء کہلاتے ہیں۔پھر ان کے اتباع اور تعلیم سے تیار شدہ لوگ جو اولیاء اور متقی ہوتے ہیں۔انہیں ان فیضانوں کا علم دیا جاتا ہے۔جناب الٰہی کی طرف سے جو خبریں آتی ہیں۔اس کے علوم بالکل الگ ہیں۔انسان کے اندر دو قسم کے مرکز ہیں۔ایک دماغ دوسرا دل۔دماغ دنیوی علوم اور مادی محسوسات کا منبع کہنا چاہئے اور قلب آسمانی علوم کا مرکز ہے۔قرآن شریف کی غرض اور مقصود اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا ہے اور انسان کو آسمانی علوم کا وارث کرنا ہے۔اس لئے وہ کہتا ہے۔ (الشعراء:۹۰) اب اس آیت میں دماغ کا ذکر بالکل گم کرتا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ دماغی نشوونما کی ضرورت اور دماغی عجائبات پر غور کرنے کی ضرورت بتاتا نہیں۔بلکہ قرآن مجید دوسرے مقامات پر (الذّٰریٰت :۲۲) اور اسی قسم کے دوسرے الفاظ بھی استعمال کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دماغی ترقی سے روکتا نہیں اس کی طرف توجہ دلاتا ہے۔مگر انسانی خلق کی غایت اور مقصد مادی ترقیات نہیں۔اس لئے ذہنی ترقیوں کے ساتھ اس کا پہلا فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ قلب سلیم کے عجائبات کو مشاہدہ کرنے کی کوشش کرے جو تقویٰ اللہ سے حاصل ہوتے ہیں اور تمام سروروں کا باعث ہوتے ہیں۔پاک