خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 330 of 660

خطابات نور — Page 330

مطاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْـیَاکُمْ ثَلٰثٌ اَلنِّسَآئُ وَالطِّیْبُ وَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ۔(مسند احمد بن حنبلحدیث نمبر جلد۳ صفحہ ۱۲۸ مطبوعہ بیروت) اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ جناب الٰہی نے محبت ڈال دی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ میں محبت کرتا ہوں۔کل یا پرسوں میاں منظور محمد نے مجھ سے پوچھا کہ مدارج ترقی کی انتہا بھی ہے۔اس وقت خیال آیا کہ صوفیوں نے اس پر بحثیں کی ہیں۔تمام ترقی یافتوں میں اولیاء ہوتے ہیں۔اس میں غایت درجہ جناب الٰہی کا دیدار ہے۔پس یہ لوگ تو وہاں تک تڑپتے ہیں کہ اس مقام لقاء تک پہنچ جاویں۔حضرت معروف کرخی کو کسی نے رؤیا میں دیکھا کہ وہ یوں کھڑے تھے (اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح نے آسمان کی طرف منہ کرکے ٹکٹکی لگاکر بتایا) یعنی آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑے ہیں۔کسی نے پوچھا کہ کیوں کھڑے ہیں؟ تو جواب دیا کہ جناب الٰہی کو دیکھتے ہیں اور کوئی خواہش اب باقی نہیں رہی۔جو لوگ صوفیاء کی صحبت میں بیٹھتے ہیں وہ  (یونس :۲۷) کے یہ معنے لیتے ہیں۔اَلنَّظْرُ اِلٰی وَجْہِ اللّٰہ۔ان لوگوں میں یہ کہانی لقاء اللہ تک ختم ہوجاتی ہے۔مگر انبیاء علیہم السلام میں عبودیت کی حُبّ رکھی ہے۔اس حُبّ کا محبوب بھی اللہ ہے۔جب تک اللہ ہے عبودیت بھی ہے۔چونکہ حکم دینے والے کے مدارج کا انتہا نہیں۔اس لئے ترقیات کا بھی انتہا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرشتہ کے ذریعہ پوچھا گیا کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔فرمایا۔عبد۔پھر پوچھا تو یہی فرمایا کہ عبد۔پھر پوچھا فرمایا کہ عبد۔غرض حُبّ کے بہت عجائبات ہیں۔پہلا مرتبہ حواس خمسہ سے شروع ہوتا ہے۔پھر حواس خمسہ باطنی پھر قلب کے عجائبات ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے قلب میں محبت ڈالی گئی۔ایک بیویوں کی۔یہ کیوں؟ یہ بھی محبت کی جامع ہوتی ہیں۔آنکھ بھی حظ اٹھاتی ہے کان بھی۔مسّ سے بھی لذت حاصل ہوتی ہے۔اس سے مراد آپؐ کی مراد یہ تھی کہ حواس کے ذریعہ سے جو انسانی کمالات ہیں۔خدائے تعالیٰ نے مجھے ان سے بھی متمتع کیا ہے اور یہ حواس سب عجیب دئیے ہیں۔پھر ان میں ایک چیز ناک کے متعلق عارضی ہے۔اس لئے فرمایا کہ مشک کی بھی محبت دی