خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 660

خطابات نور — Page 301

چاہتا ہے کہ اس کی تفصیل بہت کھول کر سنائوں مگر اس وقت اتنے ہی پر بس کرتا ہوں پھر اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور صحت اور وقت میسر آیا تو سنائوں گا۔غرض اس اللہ نے لیا ہے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو (اس سے معلوم ہوا کہ اب مومن نہ اپنی جانوں کے مالک ہیں نہ مالوں کے) مگر اللہ کے لینے سے یہ مال و جان ضائع نہیں ہوتے بلکہ ہمارے حضور موجود ہیں   (النحل :۹۷) نے جو اس جان اور مال کو لیا کس چیز کے بدلے (التوبۃ:۱۱۱) اس غرض کے لئے کہ تمہیں جنت کے اعلیٰ مقام پر پہنچادیں۔لڑو، مرو اللہ کی راہ میں کیونکہ اللہ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والوں کے لئے جنت ہے یہ وعدہ ہے جو تورات میں بھی ہے اور انجیل میں بھی اور قرآن شریف میں بھی۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عہد کو ایفا کرے گا اس کو بشارت ہو یہ خوشی کی خبر سن لو کہ یہ عجیب بیع ہوئی ہے میں نے اللہ کے لفظ کے متعلق وقت صحت اور توفیق ملنے پر کچھ اور بیان کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اب دوسرا لفظ مومنین ہے۔میں نے جہاں تک غور کیا ہے قرآن شریف اور احادیث سے ۷۰(ستر) کے قریب ایمان کے شعبے ثابت ہوتے ہیں۔ایمان کے شعبے: قرآن مجید کے پارہ ۱۴؍۲۶میں آیا ہے۔ (الحجرات :۱۶)۔اس آیت میں پانچ باتیںایمان کی بتائی ہیں۔(۱) االلہ پر ایمان لانا۔(۲) اس کے رسول پر ایمان لانا۔(۳) ان کے احکام میں شبہ نہ کرنا (۴) مالوں کے ساتھ کوشش کرنا۔(۵) اپنی جان سے کوشش کرنا۔پھر فرمایا(النساء :۶۶) یعنی مومن ہوتا ہی نہیںجب تک محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر امر دین میں حَکَم نہ بنائے اورپھر یہی نہیںکہ حَکَم بنالے بلکہ جو فیصلہ وہ کرے۔اس فیصلہ کو شرح صدرسے قبول کرے اور دل سے مان لے اور اس محبوب کے سامنے سر تسلیم خم رکھے۔(۶)گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حَکَم بنانا۔(۷) اور آپؐکے فیصلہ کو شرح صدرسے مان لینا۔پھر فرمایا:۔