خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 660

خطابات نور — Page 221

اسی قسم کاپاک نمونہ ہونے کے لئے خدا نے ان آیات میں آگاہ کیا ہے کہ جو عورتیں رسول کے گھر میں رہتی ہیں خدمت گار ہوں یا اصیل ہوں خدا تمہارے لئے چاہتا کہ تمہارا اصل ارادہ زینتِ دنیا نہ ہو بلکہ خدا اور رسول کی اتباع اور آخرت کی بھلائی ہو۔تمہاری غلطی دوہری غلطی نہ ہو کیونکہ غلط کار اپنی غلطی کا آپ ہی پھل اٹھاتا۔پس جس کی غلطی دیکھ کر دوسروں نے اثر پذیر ہونا ہے اس کو دو غلطیوں کا پھل ملے گا۔اسی طرح تمہارے لئے نیکی کے عوض میں اجر بھی دوہرا ہے۔مثلاً اگر ہمارا چال چلن برُا ہے تو ہم اول تو خدا کا گناہ کرتے ہیں دوسرا اپنے امام پر الزام لگاتے ہیں کہ اس کے ہم نشینوں کے اعمال کیسے ہیں تو خود اس کے کیسے ہوں گے۔پس تم بھی دوہری جواب دہ ہو گی اوّل اپنی ذات میں دوسرے وہ نقص بھی تمہارے ذمہ ہے جو تم کو دیکھ کر دوسری عورتوں نے تمہاری اتباع کا نمونہ گھڑا۔خدا کی اتباع کرو تا کہ خدا تمہارے کل دلِدّر دور کرے اور تم پر اپنی مہربانی کرے واعظ باتیں تو بہت کرتا ہے پر میں دیکھتا ہوں کہ واعظ کو مشکلات بھی بہت ہیں۔میں بچپن سے وعظ کرنے کا عادی ہوں۔پر مجھے بہت تجربہ ہوا ہے کہ واعظ کو وعظ میں بڑی بڑی دقتیں پیش آتی ہیں اگر واعظ صرف یہی بات کرے نیکی عمدہ چیز اور بدی بری چیز ہے تو پھر یہ تو ہر ایک فرد بلکہ بچہ بھی جانتا ہے اس کے بیان کی حاجت کیا ہے مگر واعظ کو ہمیشہ تفسیر میں دقت ہوا کرتی ہے۔اول کوئی شخص ان بداعمالیوں اور بیماریوں میں مبتلا ہے جو واعظ بیان کر رہا ہے پر وہ سمجھتا ہے کہ واعظ مجھ کو برسرعام بدنام کر رہا ہے اور واعظ سے بد ظن ہو جاتا ہے۔یاد رکھو کہ ایسا ظن برُی چیز ہے ہاں واعظ کو بھی اس میں دقت ضرور ہے کیونکہ اگر کھول کر ان بیماروں کا ذکر کرے تو لوگ سمجھتے کہ ہمیں طعنہ دے رہاہے اگر چپ رہے تو وعظ کیا ہوا۔پس بیبیوں کو اس بات سے بھی آگاہ رہنا چاہئے کہ اگر میں بیان میں کسی ایسی بیماری کا ذکر کروں جو کسی کے اندر موجود ہو تو وہ یہ بدظنی نہ کرے کہ میں اس کو بدنام کرنا چاہتا ہوں یا اس کو طعنہ دے رہا ہوں۔میں تمہارے گھر کو قابل عزت سمجھتا ہوں اور اس پر جان ومال قربان کرنے کو طیار ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل سچ ہے اگر اب بھی تم ایسے الزام لگائو تو میں برُی ہوں