خطابات نور — Page 222
تیسری غلطی یہ ہے کہ انسانی کمزوری سے انسان دوسرے کی غلطی دیکھ کر بدظن ہو جاتا ہے مگر خدا کے نزدیک اور میزان ہے۔جس کے لئے فرمایا۔(القارعۃ: ۷، ۸) پس میری طبیعت میں خدا تعالیٰ نے یہ بات رکھ دی ہے کہ انسان کے بہت سارے اعمال صالح پر نظر ڈالا کرتا ہوں۔کیونکہ خدا نے فرمایا ہے(التوبۃ: ۱۰۲) پس جب ہم کسی بدی یا بیماری کی تفسیر کرتے ہیں تو یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ کسی کو نشانہ بنا دیں بلکہ اس لئے کھولتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کوئی ایسی تحریک پیدا کر دے کہ ان کے اندر سے وہ بیماری دور ہو جائے۔پس میں عورتوں کی بیماریوں کا ذکر کروں گا کیونکہ مجھ کو گول بات پسند نہیں ہوتی۔(۱) عورتوں کی عادت بددعا کی ہوتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہوشیار عورت نے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ جو فرماتے ہیں کہ جہنم میں عورتیں بہت جاویں گی اس کی کیا وجہ ہے۔فرمایا اس لئے کہ تم بڑی لعنت دینے والی قوم اور خاوند کی کافر ہو۔ایک انسان تمام عمر تمہارے ساتھ نیکی سے گزار دے پھر ایک دن کی تکلیف سے تم کہہ دیتی ہو کہ میں نے تم سے کبھی سکھ نہیں پایا۔اسی طرح اولاد‘ جان‘ مال کو بددعا دیتی ہیں پر ایک وقت ایسی ہوا آتی کہ وہی دعا قبول ہو جاتی۔جریج نام ایک شخص کو ماں نے نماز میں بلایا اس نے تین دفعہ بلایا۔انہوں نے ماں کو تو کچھ جواب نہ دیا پر نماز میں دعا کی کہ خدایا ان صلوٰت وامی مگر اس عورت نے کہا کہ خدایا یہ بڑا نیک بنا پھرتا ہے اس کو موت نہ دیجیو جب تک کنچنی کا منہ نہ دیکھے۔چنانچہ ایک فاحشہ نے اس کو بدی کے لئے بلایا اس نے انکار کیا مگر اس کو کسی اور جگہ سے حمل ہو گیا۔جب بچہ پیدا ہوا تو عورت نے اس پر منسوب کیا لوگوں نے اس کو مارا مگر اس بچہ نے اس کی بریت کی شہادت دی۔پس بیبیوں کو چاہئے ایسی باتوں میں خوب احتیاط سے کام لیں۔ایک بی بی کے پاس سے ایک امیر گزرا۔بچہ کو وہ دودھ پلا رہی تھی۔کہا خدایا میرا بچہ بھی ایسا ہی امیر ہو مگر اس بچہ نے کہا خدایا میں ایسا بننا نہیں چاہتا پھر ایک پلٹتی ہوئی عورت گزری تو اس بی بی نے کہا خدایا میرے بچہ کو ایسا نہ کریو۔اس بچہ نے کہا کہ خدایا مجھے ضرور ایسا کریو۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ امیر ظالم تھا اور وہ عورت نیک تھی۔