خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 660

خطابات نور — Page 163

کی رو سے اس امام کی تصدیق کرتی ہے قرآن شریف میں چاند اور سورج کی سنّت کے متعلق فرمایا ہے  (یونس:۶)سورج اور چاند کے نظام اور قانون پر نظر کر کے بہت سے حساب سمجھ سکتے ہو جنتریاں بنا سکتے ہو جیسے دو اور دو چار ایک یقینی بات ہے اسی طرح پر یہ نظام بھی حق ہے اب اگر کوئی شخص میرزا صاحب کے دعویٰ کے متعلق پہلے دعویٰ کے وقت نقل صحیح سے کام لیتا تو یہ عقیدہ کیسی آسانی سے حل ہو جاتا تھاتیرہ سو برس پیشتر کہا گیا تھا کہ اس مہدی کے وقت رمضان میں کسوف اور خسوف ہوگا اور اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ُبت پرست قوم بھی سال سے پہلے جنتری لکھ دیتی ہے۔مسلمانوں کو غیرت کرنی چاہئے تھی اور معلوم کرنا چاہئے تھا کہ کس سال میں اجتماع ممکن ہے ؟ ہندو جاہل جب پتری بنا کر کسوف خسوف کے پتے دیتا ہے تو ایک مسلمان کو جس کی کتاب میں لکھا ہے سوچنا چاہئے تھا کہ وہ وقت کب ہوگا اور جب اسے وقت کا پتا ملتا تو وہ تلاش کرتا کہ مدّعی ہے یا نہیں؟ اگروہ مدّعی کو پالیتا تو سوچ لیتا کہ آسمان کی بات میرے یا کسی کے تعلق میں نہیں ہے نقل میں موجود ہے کہ اس کے وقت کسوف خسوف ہوگا اور عقل بتاتی ہے کہ یہ اجتماع کسوف خسوف کا فلاں وقت ہوگا اور وہ وقت آ گیا ہے اور مدّعی موجود ہے جب ان امور پر غور کرتا تو بات بالکل صاف تھی اور وہ مان سکتا تھا اور بڑی سہل راہ سے سمجھ سکتا تھا اگر اتنی عقل اور سمجھ نہ تھی تو دعویٰ کے وقت ہی حدیث کو دیکھ لیتا اور سن لیتا اور سوچتا کہ یہ حدیث کیسی ہے اور پھر کسی ہندوسے دریافت کرتا کہ یہ موقع کب ہو گا اور وہ اسے بتاتا کہ فلاں سنہ میں ہوگا اور پھر جب وقوع میں آتا تو تسلیم کر کے اپنے تزکیہ کے لئے چلا آتا۔غرض یہ کیسی صاف اور روشن بات تھی لیکن اگر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا اور اس کی نگاہ اتنی اونچی نہ تھی تو زمین میں ہی دیکھتا کہ اس کے لئے کیا نشان ہیں؟ اور اس امر پر غور کرتا کہ قرآن تو اس لئے آیا ہے (البقرۃ :۲۱۴) اب اس دعویٰ کے موافق اس وقت کوئی اختلاف ہے یا نہیں ؟ اور پھر قرآن شریف اس اختلاف کے مٹانے کے لئے بس ہے یا نہیں؟ پہلی بات پر نظر کر کے صاف معلوم ہوتا کہ اختلاف کثرت سے پھیلا ہوا ہے سب سے پہلا اختلاف تو ہمیں اپنے ہی اندر نظر آتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض صداقتیں ہمارے اندر ہیں جن کو ہم ایمانیات یا عقائد کہتے ہیں اور پھر کچھ اعمال ہیں جو یا نیک ہوتے ہیں یا بد۔