خطابات نور — Page 110
کہ یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مرا ہے اور صلیب پر نہیں مرا۔اس حربہ کی حقیقت سے وہ لوگ خوب مزہ اٹھا سکتے ہیں جو عیسائی مذہب کے اصولوں سے واقف ہیں اور ان کو ان کے ساتھ کبھی کلام کرنے کا موقع ہوا ہے۔غرض اس بات کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے یہ تو میرے نزدیک ایک چھوٹی سی بات ہے جو حضرت امام کے اس جوش کا نمونہ ہے جو توحید کے قائم کرنے کے لئے اس کے دل میں ہے واِلَّا وہ دکھ اور کپکپی جو اس کے دل و دماغ میں پہنچی ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ نہ وہ دل ہے اور نہ وہ مزہ اور لذت ہے۔اسی توحید کے پھیلانے کے واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کو کیا کیا تکالیف برداشت کرنی پڑی تھیں۔پھر آج یہ کام آسان کیونکر ہوسکتا ہے اس وقت تو مشکلات اور بھی بڑھے ہوئے ہیں۔اس لئے بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے اور ہر شخص اس قدر توجہ نہیں کرسکتا جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کی تائید نہ ہو۔تم جانتے ہو کہ جس شخص نے سارے جہاں میں قرآن شریف کی عظمت کا بیڑا اٹھایا ہے۔اس کو کس قدر مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔الغرض چونکہ قرآن شریف کی عظمت ہی اسے مقصود ہے۔اس لئے اس کے واسطے یہ ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات اٹھانے کو ہر وقت تیار رہتا ہے اور یہی اس کی کامیابی کی دلیل ہے کہ کوئی مشکل اور تکلیف اس کے حوصلہ کو پست نہیں کرسکتی۔پھر دوسری بات جو سکھائی گئی ہے منعم علیہ بننے کے واسطے وہ شفقت علی خلق اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے رہو۔یہاں کوئی چیز مخصوص نہیں فرمائی۔بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو۔زبان دی ہے خدا کی عظمت اور جبروت کے اظہار کے لئے ‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے اظہار کے واسطے، پس اس سے یہ کام لو۔حق گوئی کے لئے اسے کھولو۔جب کوئی آپ کے مقابلہ میں گندہ دہنی کررہا ہو تو (النحل :۱۲۶) پر عمل کرکے نہایت پاکیزہ اور معقول اور مدلّل طریق سے اس کی زبان بند کرنے کی کوشش کرو اور اس کے گند کے بالمقابل ایک اعلیٰ درجہ کا محکمہ حفظ صحت قائم کرو جبکہ مخالف قسم قسم کے ردّی اور مضر صحت (روحانی) مواد پھیلانا چاہتا ہے۔تو شائستہ باتوں