خطابات نور — Page 60
جب تک وہ متفرق اور منفرد حالت میں رہے گی اس کی طاقت کمزور ہوگی اور وہ ان فیوض سے بہرہ ور نہیں ہوسکتی۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی سرگروہ ایک ہی مرکز اور ایک ہی چشمہ ہو۔میں نے ایک چھوٹی سی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک بار انسانی جسم کے اعضا نے باہم مشورہ کیا۔پائوں نے کہا کہ مجھے روزی کمانے کے لئے سفر کی کیا ضرورت ہے۔کھا تو پیٹ لیتا ہے۔ایسا ہی ہاتھوں نے کہا کہ مجھے کمانے کی کیا حاجت۔آنکھوں نے دیکھنے سے، کانوں نے سننے سے غرض ہر ایک عضو نے اپنے اپنے فرض منصبی سے انکار کردیا نتیجہ یہ ہو اکہ پیٹ میں جب کچھ نہ گیا تو آخر ُکل طاقتیں اور قوتیں سب سلب ہونے لگیں اور جب ہر ایک پر اس کا اثر ہوا تو پھر سب پکار اٹھے۔یہ ہماری غلطی ہے۔پیٹ ہی کے لئے مفید نہ تھا بلکہ ہم سب کی زندگی کا اصل راز بھی یہی اتفاق تھا۔اس کہانی سے سبق یہ ملتا ہے کہ جب تک وحدت ارادی پیدا نہ ہو زندگی پیدا نہیں ہوسکتی۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس راز کو سمجھ لیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین و دنیا میں مظفر و منصور ہوگئے۔صحابہ کرام نے یہ بات کیسے حاصل کی اور کس طرح سلوک پورا کیا۔اس کا ایک نمونہ ان کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے۔ایک مرتبہ ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ پڑھ رہے تھے۔اثنائے بیان میں آپ نے فرمایا کہ بیٹھ جائو۔ابن مسعود ایک گلی میں آرہے تھے۔وہاں ہی یہ آواز ان کے کان میں آئی اور معاً وہیں بیٹھ گئے۔کسی نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھ گئے۔فرمایا کہ اندر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جائو۔چونکہ اس حکم کی تعمیل ضروری تھی اور یہ معلوم نہیں کہ مسجد تک جانے میں مجھے یہ موقع ملے یا نہ ملے۔اس واسطے میں یہیں بیٹھ گیا کہ تعمیل ارشاد ہوجاوے۔یہ ہے نمونہ صحابہ کی اطاعت اور تعمیل حکم کا اور جب تک یہی روح اور رنگ مسلمانوں میں پیدا نہ ہو یقینا سمجھ لو کہ کوئی ترقی اور کامیابی نہیں ہوسکتی اور ہرگز نہیں ہوسکتی۔خواہ یورپ کے فلسفہ اور ایجاد کو اپنا قبلہ بھی بنالیں۔اس طرح پر تم سمجھ سکتے ہو کہ وحدت کی کیسی ضرورت ہے انسان انسانی کمالات میں ترقی کرنی چاہتا ہے۔جمادات اور نباتات بھی اپنے رنگ میں ایک ترقی کرتے ہیں لیکن ان ترقیوں کی تہ میں