خطابات نور — Page 524
شروع شروع میں جب میں مدرس تھا۔سکول میں چار سو لڑکا پڑھتا تھا۔ان دنوں کوئی فیس مقرر نہ تھی تھوڑے دنوں کے بعد فیس کے جاری کرنے کا جو حکم ہوا اور ہم نے فیس کے لئے عادت ڈالنی چاہی تو صرف پندرہ آنے ان چار سو لڑکوں سے وصول ہوئے تِس پر بھی ایسی دقت کا سامنا ہوا ایسی مصیبت اٹھانی پڑی کہ سارے کے سارے شہر کے لوگ غل مچانے لگے اور چاروں طرف سے شور اٹھا کہ لڑکے اپنے کھانے پینے کے لئے جو پیسے گھر سے لے جاتے ہیں انہیں استاد چھین لیتا ہے ایک تو وہ وقت تھا کہ ۴۰۰ لڑکوں سے ۱۵ ؍(آنے)بھی مشکل سے وصول ہوئے اور ایک یہ وقت ہے کہ آج اگر (ایک روپیہ)فی لڑکا بھی لیا جائے (جو نہایت ہی کم درجہ کی اوسط ہے) تو کم از کم چار سو روپیہ فیس کا ہو جاتا ہے اور لوگ خوشی سے دیتے ہیں یہ کیوں؟ اس لئے کہ لوگوں نے مدرسہ کی تعلیم سے بڑے بڑے فائدے اٹھائے اور عمدہ عمدہ نتیجے دیکھے۔اب چاہے گھر بک جاوے مگر لوگ اپنی بہتری اسی میں دیکھتے ہیں کہ تنگ ترش رہ کر بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں اور خوب اعلیٰ تعلیم دلائیں۔میں نے ایک زمیندار کو دیکھا اس نے اپنی ساری زمین بیچ کر اپنے لڑکوں کو ولایت بھیجا کسی نے کہا کہ تم نے بڑی غلطی کی۔اس زمین کی طفیل تم نواب بنے بیٹھے تھے اس نے کہا کہ بے شک ہے تو یونہی مگر میں نے اس وقت اسی میں فائدہ دیکھا کہ اپنے بچوں کی خاطر زمین کو قربان کر دوں اگر ان کی قسمت میں ہے تو وہ خود اپنی لیاقت اور علم سے نوابی کو حاصل کر لیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا جب وہ لڑکے ولایت سے واپس ہوئے تو انہوں نے اپنی لیاقت اور اللہ کریم کے فضل سے کئی کئی لاکھ بیگھ زمین پیدا کی اور اصلی معنوں میں نواب بن بیٹھے۔لوگ دنیاوی تعلیم کا نتیجہ دیکھتے ہیں اسی لئے اس کے حصول کے لئے اس قدر ہاتھ پائوں مارتے ہیں۔مسجد کے ملاں دکھا نہیں سکتے کہ اسلام کیا ہے اور اس کے اصول کی پابندی سے انسان کیسا عظیم الشان انسان بن جاتا ہے اور وہ دکھائیں بھی کیا؟ آئے دن انہیں مقدمات رہتے ہیں جن سے انہیں فرصت ہی نہیں ملتی پھر وہ کریں تو کیا کریں؟ بڑی مصیبت کا وقت ہے اگر کان رکھتے ہو تو سنو! اور خوب غور سے سنو کہ یہ قومیں تم کو حقارت سے دیکھتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ سوچو۔میرے ایک دوست نے منصفی کا امتحان دینا تھا میں نے اس سے کہا کہ دس برس سے کوئی مسلمان اس