خطابات نور — Page 525
امتحان میں پاس نہیں ہوا اس لئے تم بھی پاس نہیں ہو سکتے۔پہلے تو اس نے اس بات کو معمولی جانا مگر جب وہ پاس نہ ہوا تو پھر اسے بڑا ہی تعجب ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کو غیب کا علم ہے۔میں نے کہا ممتحن ایک ہندو ہے اس نے اپنے دل میں وعدہ کیا ہوا ہے کہ کسی مسلمان کو پاس نہ کروں گا اس لئے کوئی مسلمان پاس نہیں ہوتا۔جب مسلمانوں کے واویلا مچانے سے وہ ممتحن الگ کیا گیا تو کہنے لگا کہ کیا ہوا میں اپنے فرائض کو بڑی اچھی طرح سے ادا کر چکا ہوں۔آج تک میں نے ہندو منصف صاحبان کے توسط سے (جن کو میں نے پاس کیا ہے) مسلمانوں کے بر خلاف کروڑوں ڈگریاں کروا ڈالی ہوں گی۔مسلمانوں کی یہ گَت کیوں ہوئی اس لئے اور محض اس لئے کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا۔اگر میں تمہارے سامنے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھ کر پوچھوں کہ اس کا کیا مطلب ہے تو مجھے خوف ہے کہ تم سے بہت ہی کم ایسے نکلیں گے جو اس کا مطلب بیان کر سکیں۔صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کو پڑھا سمجھا اس پر عمل درآمد کیا وہ صرف بادشاہ ہی نہ بنے بلکہ بادشاہ ان کے خدمت گزار بنے۔یہ کیوں اس لئے کہ انہوں نے اپنے عمل کو قرآن کریم کی تعلیم سے عین مطابق کر دکھایا۔اب اپنی عملی حالت کا اندازہ اس طرح سے ہو سکتا ہے اول تو تم نماز پڑھتے ہی نہیں اگر پڑھتے بھی ہو تو نہایت کسل اور بے دلی سے۔ایک عورت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئی اس نے حضور کو ایک سو روپیہ دیا اس کے ساتھ ایک جوان لڑکی بھی تھی جو اس کی دختر تھی میں نے اسے کہا تم نے ایک بڑی رقم حضور کو دی اس نے کہا کہ ہاں جی۔آپ بھی دعا کریں کہ میرے ہاں اولاد ہو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ لڑکی کس کی ہے۔کہنے لگی لڑکی تو میری ہی ہے پر پرایا مال ہے یہ میری کیا لگتی ہے۔دعا کریں کہ میرے گھر اولاد ہو۔میرا جی چاہا کہ اسے سمجھائوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ایک لڑکی تھی یہ سادات کی اتنی بڑی قوم اسی کی اولاد ہے اس لئے میں نے کہا کہ مائی! کیا تو میرے مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں تو نہیں جانتی علم والے جانتے ہوں گے اس کے اس جواب سے میں بہت حیران ہوا جو میں نے تجویز اس کے سمجھانے کے لئے سوچی تھی وہ غلط نکلی۔پھر میں نے کہا کہ تو کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ سمجھتی ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں میں تو نہیں سمجھتی۔پڑھے ہوئے جانتے ہوں