خطابات نور — Page 506
پس تم سورۃ فاتحہ کو پڑھو اوردیکھو کہ کی راہ پر چلتے ہو یا مغضوب اور ضال کی راہ پر۔اس کے لئے تم دعا سے کام لو تاکہ تمہیں کی راہ کا علم ہو۔پھر اس علم کے مطابق عمل ہو تاکہ تم نہ ہو جائو۔کسی مامور سے بیجا عداوت نہ کرو۔اس سے بھی ہوجائو گے۔یہ بڑی ضرورت ہے کہ تم علوم الٰہیہ سے بے علم نہ رہو۔کسی سے بیجا محبت نہ کرو۔اس سے پہلے چالیس مرتبہ اقرار کیا ہے۔فرض اور سنت نفل ملا کر چالیس رکعت نماز میں، سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس دعا میں اقرار کیا ہے کہ صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔اس معاہدہ کو دیکھو اور آٹھ پہر کے عملدر آمد کو دیکھو ہاتھ باندھ کر اور قبلہ رخ ہوکر معاہدہ کیا ہے کہ قبلہ کی طرف سے جو آواز آتی ہے اس کے فرمانبردار ہیں۔اول تو بدوں علم کے یہ چیز نہیں آسکتی۔لوگ آج کل کے فلسفہ کو مشاہدات پر رکھتے ہیں۔ہم کہتے ہیں ہماری تعلیم تو یہی ہے۔(العصر :۴)۔پھر اعمال کی ضرورت ہے دیکھو تمہارے معاملات کیسے ہیں؟ دو بیویاں ہیں تو عدل کیا کرتے ہو۔لین دین ہے تو کیا لینے میں دینے کا خیال رہتا ہے۔ملازمت ہے تو کیسی چستی سے کرتے ہیں۔حرفہ والا دیکھے کہ جھوٹ نہیں کرتے۔یہ سب باتیں نیک صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہوتی ہیں اور دعا سے حاصل ہوتی ہیں خود کرو۔نہیں تو کسی سے کرائو۔اللہ تعالیٰ تمہیں نیک اعمال کی توفیق دے۔آمین آخری بات: میں لاہور میں داخل ہوا تو اس مسجد کو دیکھ کر بڑی ہی خوشی ہوئی۔اس کا اظہار میںالفاظ میں نہیں کرسکتا۔آج میں یہاں سے جانے والا ہوں اگر ارادہ الٰہی ہوا۔میرا جی چاہتا ہے جیسے آتے ہی خوشی ہوئی ہے اب جو میں جانے والا ہوں کچھ بڑھاپا ہے اور کچھ ایک عجیب زخم ہے۔کچھ بیمار رہتا ہوں۔مگر دل کی خواہش ہے کہ جاتے ہوئے بھی تم سے بہت خوش ہوکر جائوں۔اس کا ایک ذریعہ ہے۔مجھے روپیہ کی ضرورت نہیں نہ آج نہ اس سے پہلے اور نہ آئندہ۔مجھے اپنے مولیٰ پر بھروسہ ہے۔مجھے اپنی ذات کے لئے اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ دیا اور رحم کیا ہے۔مجھ پر اتنی نعمتیں نازل کیں کہ سچ مچ لاتعداد کا مصداق ہیں۔بہت ہی فضل میرے ساتھ ہوئے۔