خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 468 of 660

خطابات نور — Page 468

رسہ کشی کا ایک کھیل ہوتا ہے اور تم نے دیکھا ہو گا اس میں دو پارٹیاں ہوتی ہیں۔ایک ایک طرف دوسری دوسری طرف۔جس طرف کے لڑکے وحدت کے ساتھ مل کر زور نہ لگائیں وہ جیت نہیں سکتے۔یہ لڑکوں کی فطرت میں ایک امر رکھ دیا ہے۔مسلمانوں کو بھی ایک حبل اللّٰہ دیا گیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ سب کے سب مل کر زو ر لگائیں۔اب قرآن کریم کے اعتصام کے مسلمان مدعی ہیں۔ایک طرف جڑ کاٹنے کے لئے آریہ، برہمو ،سناتنی، مسیحی، دہریہ، ملحداس رسہ کو کھینچ رہے ہیں اور زور لگا کر اپنی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔دوسری طرف تم نے اس حبل اللّٰہ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے ان مخالف اقوام میں سے برہمو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے نرم ہیں مگر میں ان کو سب سے بڑا دشمن اسلام سمجھتا ہوں۔کیونکہ انبیاء علیہم السلام کو مکالمہ الٰہی میں دغاباز اور جھوٹے قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ) اور یا پاگل اور کم عقل کہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ دروغ مصلحت آمیز پر عمل کرتے تھے اسی طرح ملائکہ کے وجود کو شرک قرار دیتے ہیں۔حالانکہ نبوت کے کارخانہ کا مدار ملائکہ پر ہے اور بھی باتیں ہیں جن کے بیان کی اس وقت ضرورت نہیں۔مجھے برہمو لوگوں سے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا ہے انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے۔ایسا ہی سناتن لوگ پہلے اعتراض نہ کرتے تھے مگر اب وہ بھی کرنے لگے ہیں۔مسیحی لوگوں نے تو اس قدر کوشش کی ہے کہ عقل، وہم، فکر میں نہیں آسکتی۔تین ہزار اعتراض انہوں نے اسلام پر کیا ہے اور شبہ ڈالتے ہیں۔مالی طمع دیتے ہیں اور بہت سے ذریعے لوگوں کو مسیحی بنانے کے اختیار کر رکھے ہیں۔ضلع سیالکوٹ میں ایک شخص پر خطرناک مقدمہ تھا۔اس کو کہا گیا کہ عیسائی ہو جائو تو شاید بچ جائو۔چنانچہ وہ مسیحی ہو گیا اور روئیداد مقدمہ میں یہ امر بھی آگیا کہ مسیحی ہونے کی وجہ سے شبہ کیا جاتا ہے اور گواہی میں مخالفانہ شہادت تعصب مذہبی کے باعث ہے۔اس سے وہ بچ گیا کیونکہ مجسٹریٹ نے فیصلہ میں لکھ دیا کہ گو شہادت قوی ہے مگر مذہبی عداوت کا رنگ رکھتی ہے۔بعد میں اس نے چاہا کہ مسجد جو اس نے بنائی تھی اسے توڑ کر گرجا بنا دے۔میرا ایک دوست لاٹ صاحب سے ملنے گیا ملاقات کے دوران میں لاٹ صاحب نے خود اٹھ کر ایک نہایت خوبصورت بائبل لا کر دی۔اس امیر نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے کہا کہ کیا کبھی تم نے