خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 322 of 660

خطابات نور — Page 322

علاج صبر اور دعا ہے۔غرض تعلیم حاصل کرنا تمہارا مقصود ہو۔دعا سے ہو۔تقریر سے ہو۔خوش معاملگی سے ہو۔تعلیم روحانی کی خاطر لنگرخانہ مہمان خانہ، تالیف، خط و کتابت، آنے جانے والوں کے لئے مروت کی راہ تھی۔یہ لنگر تعلیم روحانی کا مدرسہ ہے۔اب اس کے ذریعہ تعلیم ہوتی ہے یا نہیں۔تم خود موجود ہو اور میرا آج کا بیان گواہ ہے۔پھر ایک ذریعہ میگزین ہے۔اس کے ساتھ تین مشکلات ہیں۔ایک ہی مضمون لکھتا ہے۔چھپواتا ہے اور شائع کرتا ہے۔وہ انسان ہے خدا نہیں۔اس سلسلہ میں ضرورت ہے کہ کوئی اور اس کے ساتھ شامل ہو۔پھر لنگر کے ساتھ ضرورت پڑی کہ یتامیٰ، مساکین اور مہاجر آویں۔اس کے اندر ہی اندر ہائی سکول، الحکم و بدر کی ضرورت پڑگئی۔پھر ہمیں واعظوں کی ضرورت ہے۔میں دردِ دل سے کہتا ہوں کہ ایسے واعظوں کی ضرورت ہے جن کا منشاء خدا کو راضی کرنے کا ہو۔ایسے واعظ دو طرح سے ہوسکتے ہیں۔دعا سے یا نگرانی سے۔آپ لوگ دور رہتے ہیں اور اس وجہ سے شاید ان مشکلات سے واقف نہ ہوں۔مگر جو یہاں ہیں انہیں علم ہے۔ایک نادان نے مجھ پر اعتراض کیا کہ حضرت صاحب ایسا لباس پہنتے ہیں یا بادام روغن کا پلائو کھاتے ہیں۔میں نے اس کو کہا کہ ہمارے ہاں حلال ہے اور حکم ہے (البقرۃ: ۵۸)۔شیعوں، آریوں کی طرح نکتہ چینیوں کی طرف نہ جھکو بلکہ ہماری ضروریات اور اغراض میں ہمارے ساتھ ہو جائو۔میں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ نیا کپڑا بنائو تو پرانے یہاں بھیج دو۔خواہ وہ پھٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔جوتا ٹوٹا ہوا ہو یہاں بھیج دو۔وہ کام آسکتا ہے۔پھٹے اور دھلے ہوئے کپڑے عورتوں کے پوتروں ہی کے کام آسکتے ہیں۔دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ مفید ہے۔اگر تم اپنے بچے کی تعلیم کے لئے روپیہ خرچ کرتے ہو تو اس کے صدقے میں تھوڑا سا غریب اور مسکین بچوں کے لئے بھی دو۔ان اغراض کے بعد ایک اور بات ہے۔جانتے ہو میں نے امامت کا دعویٰ نہیں کیا مگر میرے خدا نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ تم میرے ہاتھ پر بک جائو۔اس کا فضل ہے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے سوال کیا کہ میں کون ہوں؟ وہ حیران ہوئے۔اس پر آپؐ نے فرمایا کہ تم یہ جواب دو کہ تو مکّہ کا باشندہ ہے۔تیری قوم نے تجھے شہر سے نکالا۔ہم نے تجھ کو اور