خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 323 of 660

خطابات نور — Page 323

تیرے ساتھ والوں کو جگہ دی۔ہم تیرے سینہ سپر ہوئے اور انصار۔تم یہ جواب دے سکتے ہو۔پھر انصار! تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر ہوا کہ اللہ کا رسول ہمارے گھر میں آیا اور ہمارے گھر میں اللہ کی وحی آنے لگی۔اسی طرح پر میں تم سے کہتا ہوں کہ میں کون ہوں؟ میں ایک انسان تم میں سے ایک ہوں۔کون ہوں؟ جس نے اپنا وطن چھوڑا تھا۔تم میں سے بھی بعض نے چھوڑا مگر مجھے حضرت امام نے فرمایا کہ وطن کا خیال نہ کرنا۔میں نے نہیں کیا۔گھر تک کی خبر نہیں لی۔ایک بات بڑھ کرکی ہے کہ بیٹے کے لئے ایک پیسہ کا ورثہ نہیں چھوڑا۔اس لئے کہ اس کے باپ کو مخفی راز سے ملا۔اسے بھی ملے گا اور ضرور ملے گا یہ میرا یقین ہے۔تم میں سے ایک ہوں۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے تجھ کو نمبردار کیا اور تیری بیعت کی ہے۔مگر سچ یہ ہے اور تم بھی سمجھ سکتے ہو کہ میں لا الٰہ الا اللّٰہ پر سچا ایمان لایا ہوں اور میں دنیا کی رضا کا طالب نہیں۔اللہ کی رضا کا طالب ہوں کیونکہ میری ضرورتیں ہر آن نئی ہیں۔پس اگر اس کی رضا کا طالب نہ بنوں تو پھر ایک دم ہی میں ہلاک ہوسکتا ہوں۔اس نے آپ میری تربیت کی اور یہ بھی میری تربیت کا ایک پہلو ہے۔پس تم اگر چاہو اور خدا تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو تو یوں سمجھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہیں ایسا شخص دیا جو تمہارے لئے ایک درد مند دل رکھتا ہے اور تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتا ہے۔دیکھو! یہ غلط ہے کہ تم نے میری بیعت کی۔میرے مولیٰ نے تمہیں ادھر جھکایا۔تمہیں میری فرمانبرداری ضروری ہے۔میں تمہارا سکھ چاہتا ہوں۔جن دعائوں کو میں نے کبھی نہیں کیا۔تمہارے لئے کرتا ہوں۔پھر آخر میں کہتا ہوں کہ صمد نام سے اجتماع کرو۔ہم اکٹھے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کی بھلائی کے لئے دعا کریں کہ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کے لئے تیار ہو۔اس کے بعد آپؓ نے مولوی حسن علی صاحب مرحوم کی کتاب تائید حق اور سید عبدالحئی عرب کی کتاب اوامرونواہی قرآن مجید کے لئے تحریک کی اور اب بھی جن لوگوں تک یہ تحریر پہنچے۔ان کا فرض ہے کہ حضرت امامؓ کی حکم کی تعمیل کی خاطر ان کتابوں کو منگوائے۔تائید حق کی قیمت ۴؍ اور اوامرونواہی کے ۹؍ ہیں۔(الحکم ۲۱مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ۱تا۵۶) ٭ … ٭ … ٭