خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 321 of 660

خطابات نور — Page 321

میں مختصر کرتا ہوں۔میں نے بڑی محنتوں سے قرآن مجید سناناچاہا مگر باوجود خرچ اموال مجھے اس قدر کثرت سے سننے والے نہ ملے۔تاہم میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری ہمیشہ یہی سناتا رہا۔یہاں تک خدا تعالیٰ نے یہ فضل کیا اور ایک کثیر جماعت سننے والوں کی پیدا کردی۔یہ اس کا فضل ہے۔(الفا تحۃ :۵) کے ذریعہ آتا ہے۔پس تم میں سے ہر ایک اس کا مستحق ہے کہ اللہ کی رحمت کو حاصل کرے۔پس ایک غرض یہ ہوئی کہ تعلیم دلائو یا حاصل کرو یا روپیہ دو یا دعا کرو۔دوسری بات یہ ہے کہ بغچہ سرائے اور قازان میں عربی کے مدارس کھل گئے ہیں اور مصر نے علم کا سمندر اگل دیا ہے۔ادھر ندوۃ العلماء اسی فکر میں ہے۔کانپور میں الہیات کا مدرسہ کھل چکا ہے۔تم اس کی فکر کرو۔میں نے اپنے امام سے ایک بات پوچھی کہ کالجوں میں دہریت پھیل رہی ہے۔آپؑ نے فرمایا کہ میں ہزار برس کے بعد آنے والے چاند کو دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ دہریہ بنتے ہیں بے دین بنتے ہیں مگر یہ تختی صاف ہورہی ہے۔تم اچھا نقش بٹھانے والے ہوگے تو بٹھائو گے۔ہم جھوٹے نہیں اور آخر لوگ وہی مانیں گے جو ہم اس وقت منوانا چاہتے ہیں۔اس لئے ان باتوں کی پرواہ نہ کرو۔اس وقت بعض ناعاقبت اندیش کہتے ہیں کہ عربی سے کیا ہوتا ہے؟ انہیں عربی کی قدر نہیں۔اس لئے کہ کالجی تعلیم نے انہیں کسی اور طرف پھینک دیا ہے۔مجھ سے پوچھو کہ عربی سے کیا ہوتا ہے۔عربی سے قرآن مجید آتا ہے۔عربی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت آتی ہے اور آپ کی ہدایات کا علم آتا ہے۔عربی سے حقیقی آثار صحابہ تابعین کے پہچانے جاتے ہیں۔جو کہتے ہیں کہ عربی پڑھے ہوئے ذلیل ہیں وہ بے وقوف خود ذلیل ہیں۔انہیں کہو کہ تم نے علم نہیں پڑھا۔مگر اب علماء کو ضرورت سمجھ میں آگئی ہے اور وہ باخبر ہوچلے ہیں۔سجادہ نشینوں کو بھی اپنے تنزل کی خبر ہوگئی ہے اور وہ بھی اس فکر میں ہیں کہ کچھ علاج کریں۔مگر تمہارا سجادہ نشین زمانے کے حالات سے خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے باخبر ہے۔اس لئے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ عربی پڑھنے میں کوشش کرو۔جو تدبیر سمجھ میں آوے جو کوشش ہوسکے کرو۔مگر کرو ضرور۔پھر یاد رکھو کہ تعلیم کا اصل منشاء وحدت کا ہے۔اگر تمہارے دلوں میں رنج اور کدورت ہوگی تو خدا کے مقبول نہیں ہوگے۔اس کا