خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 660

خطابات نور — Page 307

چیونٹی کاٹے اس کا نقصان ایک اندازہ رکھتا ہے۔سانپ کاٹے اس کا مرتبہ جدا ہے۔نیکیاں ہیں ان کے مراتب الگ ہیں۔فرائض ۱۷، ۲۰ کے مراتب الگ ہیں۔نوافل الگ ہیں۔روزہ ایک مہینہ کے سال بھر اور حج ایک مرتبہ ان کے مراتب جدا ہیں۔وتروں کے متعلق اختلاف ہے۔ان سے نیچے یہی نوافل ہیں۔رمضان کے روزوں کے سوا اور بھی نفلی روزے ہیں جو مل ملا کر چار مہینے کے قریب ہوجاتے ہیں۔پس ہر کام کا ایک پھل اور نتیجہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔اگر سست ہوگے تو تم کو وہی نتائج ملیں گے جو سستوں کے ہیں اور اگر چستی اور ہوشیاری سے کام لو گے تو تم کو وہی نتائج ملیں گے جو چستوں کے لئے مقرر ہیں۔میری ماں نے اللہ تعالیٰ اس پر بہت بہت فضل کرے۔مجھے بہت سے مسائل پنجابی زبان میں سکھا دئیے تھے۔میں ان کو اصول کی طرح یاد رکھتا ہوں۔ان میں سے مسئلہ تقدیر کے معنی بھی ہیں اور وہ مجھے اب تک یاد ہیں اتے ہر شے دا اندازہ چاہے بد تے چاہے نیک اللہ تعالیٰ تہیں مقرر ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی بھرے گا جو اگ کھائے گا انگارے ہگے گا نیکی کرو گے تو نیک نتیجہ ہوگا۔بدی کرو گے بد نتیجہ ہوگا۔پھر (۵۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ماں باپ اور تمام عزیزوں سے بڑھ کر محبت کرنا۔(۵۲) دوسروں کا ایسا خیر خواہ ہو جیسا کہ اپنا ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو کچھ روپیہ بھیجتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں کہ جہاں چاہو خرچ کردو۔اس کے لئے پھر مجھے بہت ہی سوچنا پڑتا ہے۔غرض مومن وہ ہے جو اپنے لئے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لئے چاہے۔(۵۳) نمازوں کو قائم کرے۔(۵۴) روزے رکھے۔(۵۵) زکوٰۃ دے۔(۵۶) استطاعت ہو تو حج کرے (۵۷) پھر مومن وہ ہوتا ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ امن میں ہوں (۵۸) مومن زانی، شرابی، چور نہیں ہوتا۔(۵۹) راستے کے دکھوں کو دور کرنا۔یہ مومن کا کام ہے اس سے راستوں کی درستی اور صفائی بھی مراد ہے اور یہ بھی کہ کسی مومن مسلمان کے مقصد میں کوئی روک واقع ہو تو اسے ہٹا دینا۔(۶۰) حیا کرنا مومن کا کام ہے۔(۶۱) حُبٌّ لِلّٰہ یعنی اللہ ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔(۶۲) بُغْضٌ لِلّٰہ کسی سے رنج ہو تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔اپنے نفس کی خاطر نہ ہو۔(۶۳) زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تررہے۔(۶۴)دے تو اللہ کے لئے نہ دے تو اللہ