خطابات نور — Page 291
(الانبیاء :۳،۴)۔اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ذکر آتا ہے اور اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔پس ایسے وقت میں (اٰل عمران :۱۰۴)خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اعتراضات اور سوالات کی راہ کو اختیار کرنا نہیں چاہئے کیونکہ وہ خطرناک راہ ہے۔ خدا تعالیٰ کا فیضان جماعت پر نازل ہوتا ہے میں نے مدرسہ میں رسہ کی ایک کھیل دیکھی ہے کچھ لڑکے اس کے ایک طرف ہوتے ہیں اور کچھ دوسری طرف۔پس جس طرف کے متفق ہوکر پورا زور لگاتے ہیں وہ دوسروں سے جیت لے جاتے ہیں اور جس طرف کوئی کمزوری ظاہر کرے اور پورے اتفاق سے کام نہ کریں تو وہ ہار جاتے ہیں۔اس کھیل کو دیکھ کر مجھے قرآن مجید کی ایک آیت حل ہوگئی اور وہ یہ ہے ۔خدا تعالیٰ مسلمان کو کہتا ہے کہ تم سب مل کر اس رسہ کو کھینچو دشمن دوسری طرف سے اس کو کھینچ رہا ہے اب اگر تم سست ہوکر بیٹھ رہو اور یہ سمجھ لو کہ اس سے پہلے ہم فتح پاچکے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن رسہ لے جاوے گا مگر تم بتائو کہ کیا ہمارے اعداء سب مٹ گئے جب یہ بات نہیں ہے تو پھر اعداء کی مدافعت کی کیوں ضرورت ہے۔یہ سچ ہے کہ مسیح حجتِ بالغہ عیسائیوں پر ختم کرگئے ہیں آریوں اور برہموں پر بھی حجت پوری کی مگر کیا آریہ، برہمو اور عیسائی مرگئے؟ کیا ان کی طرف سے اسلام پر بدستور حملے نہیں ہوتے؟ پھر جب ان کی طرف سے اسی طرح پر حملے ہورہے ہیں تو تم خدا سے باغی ہوکر کیوں کہتے ہو کہ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔میرے نزدیک اس رسہ کو اب پہلے سے زیادہ زور اور طاقت اور اتفاق سے مل کر کھینچنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ ان سپاہیوں میں سے ایک جو سب سے زیادہ طاقتور اور گویا بطور جڑھ کے تھا ہم میں سے جاتا رہا اور اس وجہ سے دشمن کا حوصلہ بڑھ گیا ہے۔پس اسی صورت میں زیادہ زور لگانے کی حاجت ہے۔پس یہ کہنا کہ اب قادیان میں ہوتا کیا ہے‘ کیا کوئی تصنیف کرے گا اور کیا کہے گا؟ اس قسم کے اعتراضوں سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ اعتراض پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور