خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 660

خطابات نور — Page 290

تم ہی میں سے تمہارا امیرا بنادیا۔اب معاً سوال ہوتا ہے کہ تم تو ملہم نہیں کسی امر کے مدعی نہیں تم ہمیں سنائو گے تو کیا سنائو گے؟ یہ سوال علی العموم پیدا ہوسکتے ہیں۔ازالہ وہم: ہم کس طرح سنیں وہ تو مسیح تھے مہدی تھے، کرشن تھے، امام تھے، خدا تعالیٰ کا کلام ان پر اترتا تھا، وہ تو چلے گئے۔یہ توکل ہمارے جیسا ایک مرید تھاشیخ کس طرح بن گیا۔اگر اس کی سنیں تو کیوں سنیں اور وہ ہمیں سنائے گا کیا؟ کیا مسیح و مہدی ہمارے لئے کیا کم چھوڑ گئے تھے۔اسیّ کے قریب تو کتابیں ہی لکھ گئے ہیں کیا وہ ہمارے لئے کافی نہیں؟ یہ سوال بڑے ناعاقبت اندیش لوگوں کا ہے جو خدا تعالیٰ کی سنت کا علم نہیں رکھتے اس لئے انہیں سمجھ نہیں۔یادرکھو یہ سلسلہ میری پہلی تربیت کا نتیجہ ہوگیا اگر اس قسم کے سوالات کو کوئی وقعت دی جاوے تو پھر تمام انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ہی باطل ہوجاوے۔مثلاً آدم علیہ السلام کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (البقرۃ :۳۲)۔اب آدم کے بیٹے کہتے کہ ابراہیم اور نوح کون ہیں ہم کیوں ان کی سنیں اور مانیں ابا جان کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ سنا دیا وہ تو ایسے تھے کہ (الحجر :۳۱) پھر یہ کون ہیں؟ یہ تو واقعہ گزشتہ ہے دم نقد سناتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع جمیع کمالات جن کی نسبت میرا اعقاد ہے کہ وہ خاتم العلما، خاتم النبیین، خاتم الرسل، خاتم الحکام، خاتم الاولیاء بلکہ خاتم انسانیت بھی وہی ہیں۔غرض سب ان کے نیچے ہیں یہ مضمون بہت بڑا ہے اور اس وقت میں اس پر تفصیل کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔خلاصہ یہ کہ وہ سچ اور برحق کل کمالات انسانیہ کا جامع ہے۔اب اگر آپ کے بعد کوئی ابوبکرؓ کی خلافت کو نہیں مانتا تو اس کے متعلق خدائی فیصلہ یہ ہے (النور :۵۶) خلافت کے منکر کا نام خدا تعالیٰ کی کتاب میں فاسق رکھا ہے اور ادھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو میرے خلاف ہے اسے قتل کرو۔خلافت کی ضرورت: خلافت کی ضرورت اصل بات یہ ہے کہ نئے نئے دشمن پیدا ہوتے رہتے ہیں۔پس ان کے مقابلہ کے لئے نئے خلیفوں کی بھی ضرورت ہوتی رہتی ہے۔اسی بنا پر قرآن مجید نے فرمایا: