خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 270 of 660

خطابات نور — Page 270

وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا دل سے پڑھے تو اسے نعم البدل عطا ہوتا ہے۔پس ہم نے ایمان سے اس کو پڑھا اور جس دن پانچواں مبارک احمد کا بدلہ دنیا میں آیا اور علم فرائض کے موافق و لابن الابن حکم الابن موجود ہے تو آپ لوگ کیا کریں گے۔پس یہ تمام پیشگوئیاں اگر بظاہر منسوخ ہوں تو ہمیں حرج نہیں اور اگر اپنے شرعی رنگ میں اللہ تعالیٰ سے پوری ہوئیں اور ہوں گی تو تم کیسے خطرہ میں ہو اس لئے ہم بہرحال جیت اور نفع میں رہے۔مرزا صاحب کی اولاد میں چھ موجود ہیں وَالحمدللّٰہ ربّ العالمین۔پس ان میں سے ایک بھی اولوالعزم ہو یا ان کی اولاد سے وہ عمانوئیل عظیم الشان ولد ظہور پذیر ہوا تو اس وقت آپ خود اور آپ کی اولاد دنیا کو کیا منہ دکھائے گی۔اگر تم مرگئے تو تم کو کیا کہیں گے۔مولوی ثناء اللہ نے رنگارنگ کی احتیاطوں سے تو کام لیا ہے اور اخبار وکیل نے بھی کارسپاڈنٹ میں ہماری نسبت تائیدی فقروں کے لکھنے سے دریغ نہیں کیا اور گوجرانوالہ کے شریف الطبع خالصہ نام نے جو شرافت کا نمونہ دکھایا اور اسی طرح ریاض لکھنؤ کے ایڈیٹر نے جو شرافت بھرے کالم سے کام لیا ہے۔اس کے ہم سب احمدی شکرگزار ہیں اور ایڈیٹر مسلم کرانیکل کلکتہ کی تار کا خصوصیت سے شکریہ کرتے ہوئے۔جزاہ اللہ احسن الجزاء کہتا ہوں۔بعض جگہ دیسی عیسائیوں نے خوشیوں کے نعرے مارے اور جلسے بھی کہتے ہیں کیے مگر وہ غالباً معذور ہیں کہ اگر ایسا نہ کریں تو اپنی خوش اعتقادی کا اور کیا ثبوت دیں۔ان کی کتاب مقدس نیوٹسٹمنٹ حلت و حرمت سے ساکت ہے۔احکام شرائع کی پابندی سے پولیس نے روک دیا تو اپنے اخلاص و نیکی کا اب اور ثبوت کیا دیں‘ ورنہ وہ پہلی انجیل میں ہی دیکھ سکتے تھے کہ یسوع کا مرنا کیسا ہوا۔بارہ وارثان تخت سے ایک نے پکڑوایا اور پتھر نے اپنے مقتدا پر لعنت کا پتھر پھینکا اور تتر بتر ہوگئے مگر آخر ان کے نزدیک وہ کامیاب ہوا تو یہاں جو نمونہ ان لوگوں نے دیکھا کیا اس سے ایک عاقبت اندیش عقلمند کچھ اندازہ نہیں لگا سکتا۔کم عمری کا اعتراض ہمارے زیر نظر ہے۔مگر اس ملک پنجاب میں خاص گائوں میں جو افراتفری سکھوں کے عہد میں آئی ہے اس سے اور جو خاندانوں اور شرفاء میں تکالیف پڑی اور ان کا ذکر حضرت مہدیؑ نے اپنی تصانیف میں بھی مفصّل فرمایا ہے ایسے وقتوں میں گائوں کے لوگوں میں