خطابات نور — Page 261
ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیر آں گنج کرم بنہادہ است ہاں تعلیم و عملدرآمد اور متبعین پر جو اثر اس تعلیم و عمل و درآمد کا ہوتا ہے وہی عاقبت اندیش انسان کے لئے آخری کامیابی کا معیار ہوا کرتا ہے۔بہرحال پہلے مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ کی طرح یہ مسئلہ وفات الہامات صحیحہ اور رسالہ الوصیۃ سے تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔بدر ۲۹؍دسمبر ۱۹۰۷ء۔’’بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید۔‘‘ ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) اَللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔‘‘ خوشیاں منائیں گے۔‘‘ بدر ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء۔(۲؍مئی ۱۹۰۸ء کا الہام ہے)۔’’الرحیل ثم الرحیل والموت قریب۔‘‘ ۱۵؍مئی ۱۹۰۸ء۔’’ڈرو مت۔مومنو!‘‘ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۷ء۔’’موت قریب ہے، ان اللّٰہ یحمل کل حمل۔‘‘ قادیان کے آریہ اور ہم وہ دن گئے کہ راتیں کٹتی تھیں کرکے باتیں جلد آپیارے ساقی اب کچھ نہیں ہے باقی اب موت کی ہیں گھاتیں غم کی کتھا یہی ہے دے شربت تلاقی حرص و ہوا یہی ہے (درثمین صفحہ ۸۱) حقیقۃ الوحی صفحہ اخیر چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجیئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیںگے ترسا نے کے دن بدر نمبر ۱۸ جلد ۲۔’’ دشمن کا بھی ایک وار نکلا۔‘‘۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔’’ہماری عادت ہے کہ کبھی ہم دشمن دین کو بھی خوش کردیا کرتے ہیں‘‘۔۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء۔’’ماتم کدہ۔منسوخ شدہ زندگی‘‘۔۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء مباش ایمن از بازیٔ روزگار‘‘۔اور امام نے الوصیۃ کو لکھ کر اپنے ایسے بہت سے الہامات کی عملاً تصدیق فرما دی۔اب الوصیۃ کودیکھ کر کب قابل وقعت ہے وہ جو اپنے منہ سے کہہ چکا ہے کہ وہ بیس برس متواتر اس کا متبع رہا جس کو وہ خود خاک بدہنش کہتا ہے۔جو کہتا ہے اور جس کی اتباع میں وہ بیس ہزار روپیہ برباد کرچکا ہے