خطابات نور — Page 260
قدرت کا نمونہ دیکھیں۔برادران وفات مسیح کا مسئلہ بھی منجملہ عجائبات الٰہیہ و اسرار خداوندی کے ہے کیونکہ ہمارے امام‘ علٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ ہمیشہ اپنے ایام زندگی میں مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام پر اپنی تعلیمات میں زور دیتے ہی رہے اور اپنی پر زور تقریر و تحریر و عقد ہمت سے اس مسئلہ کو اجلٰی بدیہیات سے کرکے دکھایا اور ہزارہا قلموں اور تقریروں کے سامنے یہ جری اللہ آخرفتح مند ہوا۔جَزَاہُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔آمین۔اور آپ کی وفات کے بعد معاً آپ کے احباب پر اسی مسئلہ وفات مسیح کے بارہ میں ہی دشمن نے حملہ کردیا۔الٰہی تیری پاک ذات بڑے بڑے عجائبات کا سرچشمہ ہے۔ایک عقلمند، عاقبت اندیش اور خدا ترس دنیا کی بے ثبات ایام زندگی کو دیکھنے والا کیسے کیسے سبق سیکھ سکتا ہے اگر توفیق بھی اس کی دستگیر ہو۔ہمارے مخالف جلد بازو! کچھ تو صبر سے بھی تم کام لیتے۔تم نے پہلی قدرت کا نمونہ دیکھا تھا۔دوسری کے لئے صبر کرتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ہی صبر کے اجر انشاء اللہ تعالیٰ رکھے ہیں۔وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہمارے امام نے انتقال کیا اور ظاہر ہے کہ رئیس جماعت اور ان کا امام جب انتقال کرتا ہے تو اس کی جماعت کو نفس اس واقعہ سے کیا ابتلا آتا ہے اور دشمن بھی مانتا ہے کہ یہ واقعہ بے ریب ہمارے لئے رنج دہ واقعہ ضرور ہے۔مگر ہم نے اس پر صبر سے کام لیا۔۔اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا فِیْ مُصِیْبَتِنَا وَاَخْلِفْ لَنَا خَیْرًا مِّنْھَا وَعِضْنَا خَیْرًا مِّنْھَا۔مگر تم نے ہماری تعزیت پر سوانگ بھرے۔تمہارے پروفیسر اور صوفی نے سوانگ بھرنے والوں کو اعزازی خطاب خادم دین کا دیا۔تمام دنیا میں برے یا بھلے مرے ہیں۔اہل اسلام کی تعلیمات میں کیا تم نے یہ تعلیم کہیں پڑھی ہے کہ یہ طریق تعزیت کب سے معمول اہل اسلام ہوا؟ اور کس نے اس کی ابتدا سے من سن سَنَۃ سَیِّئَۃً کا تمغہ لیا؟ عزیزان۔اللہ تعالیٰ کے تمام کام بے ریب حق و حکمت سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور اس کے ہر ایک کام میں اس کی ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالکیت جوش زن رہتی ہے۔