خطابات نور — Page 85
اس امر پر شاہد ہوں گی۔(القلم :۳) ُتو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجنون نہیں ہے۔پھریہ نرا دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک دلیل بھی دی ہے کہ مجنون کے افعال و اعمال اس کی حرکات و سکنات کا کوئی نتیجہ واقعی نہیں ملتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل و حرکت ہر بات کا ثمرہ ملتا ہے اور اس سے پاک نتیجہ ملتا ہے۔ساری رات پاگل چلّاتا رہے لیکن اس کا نتیجہ کیا؟ کچھ بھی نہیں برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فرمایا۔(القلم :۴) اور یہ بھی نرا دعویٰ ہی نہیں کہ کہہ دیا ۔آپ کی پاک سیرت اور واقعات زندگی پر نظر کرو کہ کس قدراجر ملا۔کیا یہ چھوٹی سی بات ہے کہ وہ مکہ جہاں سے بد اندیشوں کی ریشہ دوانیوں اور آئے دن کی ایذارسانیوں سے آپ کو ہجرت کرنی پڑی۔آخر آپ اس پر ایک فاتح سلطان کی طرح قابض ہوئے اور دس ہزار قدوسیوں کی جماعت کے ساتھ داخل ہوئے۔کسی نبی کی زندگی میں یہ بے نظیر کامیابی اور جلال نظر نہیں آتا۔مسیح کہتا ہے کہ کوئی نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کے واقعات بتاتے ہیں کہ آخر آپ نے مکہ معظمہ میں کس قدر عزت و عظمت حاصل کی۔پھر آپ کے لئے یہ جزا کیا کم ہے کہ آپ کی زندگی میں ایک بھی آپ کا دشمن باقی نہ رہا۔یا تو وہ ذلّت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور یا آپ کے خدّام میں داخل ہوگئے۔اس کامیابی کی بھی کوئی نظیر تلاش کرنے پر کبھی نہیں ملے گی۔پھر کیا آپ کے افعال کا یہ ُمزد کم ہے کہ جس غرض اور مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اس میں پورے طور پر کامیاب ہوگئے۔مکہ معظمہ میں جہاں گھر گھر ایک بت خانہ بنا ہوا تھا۔ایک خدا کی عبادت کا سکہ بٹھا دینا چھوٹی سی بات نہیں۔یہ ایسی عظیم الشان بات ہے کہ میں نے مختلف ہادیانِ مذہب کی زندگیوں اور بڑے بڑے ریفارمروں کے حالات میں غور کی ہے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ایسا نمونہ کامیابی کا مجھے نہیں ملا۔ایک ذرا سی رسم یا رواج کا اٹھا دینا مشکل ہوتا ہے۔یہاں صدیوں کے بیٹھے ہوئے غلط اعتقادات کو ملیا میٹ کیا ہے اور عرب کی حالت کو بالکل پلٹا دیا ہے۔جو جو لوگ عرب کی اس حالت سے واقف ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پیشتر تھی اور پھر جنہوں نے اس انقلاب پر نظر کی ہے جو آپ کی بعثت سے ہوا وہ حیران رہ گئے ہیں کہ اس قدر تغیر عظیم انسانی