خطابات نور — Page 84
قرآن کریم‘ اس کے حقائق و معارف اور اعلیٰ تعلیم {تقریر فرمودہ ۱۲؍ نومبر ۱۸۹۹ء بعد نماز ظہر بتقریب جلسۃ الوداع} الحکم کی گزشتہ اشاعتوں میں حضرت حکیم الامت کا وعظ جلسۃ الواداع کی تقریب پر ہم درج کر چکے ہیں۔۱۲؍نومبر ۱۸۹۹ء بعد نماز ظہر حکیم الامت نے دوسرا وعظ کیا جس کو ہم آج سے شروع کرتے ہیں۔(ایڈیٹر الحکم) سورۃ البقرہ کا پہلا رکوع۔یہ ابتدا ہے اس پاک کتاب کی جس کا نام نور رکھا ہے اور فضل، شفا، رحمت اور ہدایت کہا ہے۔وہ پاک کتاب جو اختلاف مٹانے کے واسطے حَکَمْ ہو کر آئی ہے۔وہ کتاب جس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ کل صداقتوں کا مجموعہ ہے خواہ وہ اس سے پہلے دنیا کی کسی کتاب میں موجود تھیں یا اس کے بعد تصنیف ہونے والی کتابوں میں ہوں۔غرض راستی کا کوئی ٹکڑا اور حصہ کہیں اور کسی کے پاس ہے تو قرآن شریف میں بالضرور موجود ہے اور پھر قرآن شریف ان تمام صداقتوں کا جامع ہی نہیں بلکہ ان کا محافظ مفسّر اور ان کو مدلّل بیان کرنے والا ہے۔یہ خیالی اور خوش کن بات نہیں کہ قرآن شریف ُکل صداقتوں کا مجموعہ ہے بلکہ قرآن شریف نے بڑے دعوے اور ناز کے ساتھ اس کو پیش کیا ہے۔چنانچہ مولا کریم فرماتا ہے۔ (البینۃ :۴) جس قدر سیدھا کرنے والی مضبوط اور مستحکم کتابیں ہیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔اس لئے میں قرآن شریف پر عرصہ دراز تک تدبّر کرنے اور خشیۃ اللہ کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے کے بعد تحدّی کرنے کے لئے تیار ہوں کہ کوئی سچائی اور پاک تعلیم دنیا کی کسی کتاب اور کسی زبان میں پیش کرو۔قرآن شریف میں وہ ضرور موجود ہوگی۔یہ تو اس کتاب کی شان ہے۔پھر اس کتاب کے لانے والے کی شان کو سوچو تو اور بھی عظمت اس پاک کتاب کی پیدا ہوتی ہے۔جناب الٰہی نے ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا۔(القلم :۲) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قدر دواتیں اور قلمیں مل سکتی ہیں اور پھر جو کچھ ان سے لکھا جاوے۔وہ سب کی سب تحریریں