خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 660

خطابات نور — Page 74

(البقرۃ :۲۸۳) اصل معلم علوم حقہ کا تو خدا تعالیٰ ہی ہے اور اس کی راہ ہے تقوی اللہ۔جب اس طریق پر انسان تقویٰ اختیار کرے تو علوم حقہ کے دروازے اس پر کھلیں گے اور وہ (فاطر :۲۹) میں داخل ہوگا۔غرض عالم ربّانیکے لئے ضرورت ہے کہ تقویٰ سے کام لے اور تقویٰ کی حقیقت اس وقت تک کھل نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے صادق اور مامور بندوں کی صحبت میں نہ رہے۔جیسا فرمایا ہے۔( التوبۃ :۱۱۹) اس سے معیت صادق کی بہت بڑی ضرورت معلوم ہوتی ہے اور فی الحقیقت ضرورت ہے لیکن چونکہ ساری قوم ایک ہی وقت اپنے امام کے گرد نہیں رہ سکتی اور اگر ہر فرد قوم کا حاضر بھی ہو تو ہر ایک فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔طبیعتیں جدا جدا ہیں اور مذاق الگ الگ اور تقسیم محنت کا اصول الگ اس کی مخالفت کرتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر فرمایا کہ ایک گروہ حصول تعلیم دین کے لئے حاضر ہو اور وہ واپس جاکر قوم کو سکھلائے۔میں پھر کہتا ہوں کہ اس آیت اور اس کے اصل مفہوم پر غور کرو۔اس کے الفاظ کو سوچو کہ ان کے اندر اصول تعلیم کے لئے کیسا کھلا اور واضح قانون رکھا ہے۔اصل غرض تفقہ فی الدین ہے۔یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ طوطا کی طرح چند کتابیں رٹ لے اور دستار فضیلت باندھ کر یا ایک کاغذ سند کے طور پر ہاتھ میں لے کر قوم پر ایک بوجھ بن کر مالیہ وصول کرتا پھرے۔نہیں بلکہ اس کی روحانی اور اخلاقی حالت اس کی نکتہ رسی اور معرفت ایسی ہو، اس کے کلام میں وہ تاثیر اور برکت ہو کہ لوگوں پر خوف الٰہی مستولی ہوکر ان کو گناہوں سے بچانے کا باعث ہو۔وہ ایک نمونہ ہو جس سے قوم پر اثر پڑسکے۔مگر بتائو اور وسیع نظر کرکے دیکھ لو کہ کتنے ہیں جو اس کے صحیح مصداق ہیں۔اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم نے مرزا صاحب کو امام مانا صادق سمجھا بہت اچھا کیا لیکن کیا اس غرض و غایت کو سمجھا کہ امام کیوں آیا ہے؟ وہ دنیا میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کی غرض یا اس کا مقصد میری تقریروں سے یا مولوی عبدالکریم کے خطبوں سے یا کسی اور کی مضمون نویسیوں سے معلوم نہیں ہوسکتی اور نہ ہم اس غرض اور مقصد کو پورے طور پر بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہمارے بیان میں وہ زور اور اثر ہوسکتا ہے جو خود اس رسالت کے لانے والے کے بیان میں ہے پھر اس کے معلوم