خطابات نور — Page 65
ہے کوئی چیز اس کو گناہوں کے ارتکاب سے نہیں روک سکتی۔نیکی کا کوئی سچا مفہوم اس کی سمجھ میں آنہیں سکتا پھر وہ نیکی کیسے کرے اور گناہوں سے کیونکر بچے۔اس کی ساری عمر ناامیدیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے۔وہ اسباب اور علت و معلول کے سلسلہ کے پیچ در پیچ تعلقات میں ہی منہمک رہ کر آخر حسرت اور یاس سے اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے۔دہریہ اور مومن : میں نے دہریہ اور ایمان والے دونوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے اور دونوں کی موت میں زمین و آسمان کا فرق پایا ہے۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربہ سے کہتا ہوں اور پھر جوچاہے آزما کر دیکھ لے کہ سچی راحت اور حقیقی خوشی صرف صرف ایمان باللہ سے ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور صلحاء کی لائف میں جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کوئی واقعہ خودکشی کا نہیں پایا جاتا۔مومن کی امید اپنے اللہ پر بہت وسیع ہوتی ہے وہ کبھی اس سے مایوس نہیں ہوتا ان کی زندگی کے واقعات کو پڑھو تو معلوم ہوگا کہ ایک ایک وقت ان پر ایسا آیا ہے کہ زمین ان پر تنگ ہوگئی ہے لیکن اس شدت ابتلا میں بھی وہ ویسے ہی خوش و خرم ہیں جیسے اس ابتلا کے دور ہونے پر۔وہ کیا بات ہے جو ان کو اس موت کی سی حالت میں بھی خوش و خرم اور زندہ رکھتی ہے۔فقط اللہ پر ایمان۔محسنین کا پہلا اور پچھلا درجہ : غرض محسنین کے زمرہ میں داخل ہونا بہت ہی مشکل اور پھر مشکل کشا ہے۔پہلا درجہ جو محسن کااعلیٰ مقام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔بعد میں حاصل ہوتا ہے۔اس کا ابتدائی درجہ یہی ہے کہ وہ یہ ایمان لائے کہ میرے ہر قول و ہر فعل کو مولیٰ کریم دیکھتا اور سنتا ہے۔جب یہ مقام اسے حاصل ہوگا تو ہر ایک بدی کے وقت اس کا نور قلب اس ایمان کی بدولت اس سے روکے گا اور لغزش سے بچالے گا اور رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخر وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لے گا اور یہ وہ مقام ہے جو صوفیوں کی اصطلاح میں لقا کا مقام کہلاتا ہے۔پس جب انسان محسن ہوکر اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے توپھر تھوڑا ہویا بہت اللہ تعالیٰ اس کے بہتر بدلے دیتا ہے۔یہ صرف اعتقادی اور علمی بات ہی نہیں۔کہانی اور داستان ہی نہیں بلکہ واقعات نفس الامری ہیں۔