خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 593 of 660

خطابات نور — Page 593

مگر قرآنی آیات بینا ت تو ایسے بھی ہیں کہ ان کی پر زور تاثیرات سے ہمیشہ ظلی طور پر اس قسم کے نمونے اسلام میں پیدا ہوتے رہتے ہیں جو اپنی پاک تاثیرات سے دنیا میں الٰہی سچی توحید او ر اپنی کتاب کے فاضلہ اخلاق کو پھیلایا کرتے ہیں اور غیر قوموں پر مختلف پیرائیوں سے اس الہٰی حجت اور فضل کو پورا کیا کرتے ہیں جن کے لئے ملہموں اور کتابوںکا آنا الٰہی کتاب ماننے والے مذاہب میں ضروری ہے۔ہمیشہ ہر صدی میں اس تحریف اور ایزاد اور نقص کو دور کرتے ہیں جو انسانی آزادی کے باعث سچے مذہب میں آجاتی ہے اور ہمیشہ قوم کو جگاتے اور اصل کتاب کو پھیلاتے ہیں۔حال ہی کے اہل اسلام کو دیکھ لو کیسے کمزور ہیں ضعیف ہیں مگراپنی کتاب کا درس اس کی اصلی زبان میں کس قدر دے رہے ہیں۔عیسائی،آریہ ، پارسی ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھیں اور منہ پر سے پردہ اٹھاویں۔لاتزال طائفۃ من امتی ظاھر ین علی الحق (صحیح بخاری ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لاتزال۔۔۔) اور ان اللّٰہ یبعث لھذہ الامۃ علٰی رأْس کل مِائَۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا(سنن ابی داؤد ، کتاب الملاحم،باب ما یذکر فی قرن المائۃ )کا مصداق بن کر اسلام کی طرح اپنی صداقت کو کون ظاہر کرتا ہے۔عملی حالت پر نگاہ کرو ادھر کوئی اسلام میں شریک ہوا مسلمانوں کا بھائی بن گیا۔جماعت اسلام میں شریک کھانے میں ،مصافحہ کا ہاتھ ملانے میں آزاد، قرآن پڑھنے میں قوم کا مساوی مستحق ، مسجد میں غرض ہر امر میں جماعت اسلام کے بادشاہ کا بھی اسلام میں ہم پلہ۔یوروپین چرچ میں نیٹو عیسائیوں کے لئے عملی ممانعت، کھانے میں ان کی تحقیر کو ہم ذکر کرکے آریہ کے حالا ت سے چشم پوشی ہی کرنامناسب سمجھتے ہیں کیونکہ آج تک انہوں نے نہ کسی غیر قوم کو وید پڑھایا اور نہ وید کو پڑھا کر اپنے سا تھ بے تکلف ،آریہ کے حقوق میں کسی کو مساوی حقدار کیا۔ایسی ہی عملی اور علمی ضرورتوں کے پورا کرنے کے واسطے قرآن نازل ہوا جیسے فرماتا ہے :۔(النساء:۱۷۵)اور فرماتا ہے :۔(آل عمران:۱۰۴)۔ساتویں ضرورت: قرآن والی صداقتیں مختلف بلاد ، مختلف کتابوں میں اگر مان لیں پہلے بھی موجود تھیں مگر اول تو ان کتابوں کا غیر محرف ہم تک بہم پہنچنا اور پھر