خطابات نور — Page 589
یقین کیا بلکہ ان میں رومن کیتھولک نے سیدنا مسیحؑ کی والدہ صدیقہ مریم کو بھی معبود ٹھہرایا۔یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات میں تشبیہ تک نوبت پہنچائی۔آریہ بیچارے تو یہاں تک گرے کہ باری تعالیٰ کی ہمہ قدرت سرب شکتیمان ذات کو اپنے پر قیاس کر کے کہہ دیا جیسے بدوں میٹر اور مادہ کے مخلوق میں کوئی شخص کو ئی چیز نہیں بنا سکتا، باری تعالیٰ سے بھی بدوں مادہ کے کسی چیز کا بننا اَسَنْبھواور محال ہے اور اس فاسد قیاس کے باعث کروڑوں کروڑ ذرّات عالم کو غیر مخلوق ، کروڑ کروڑ ارواح کو غیر مخلوق کہہ بیٹھے۔ابدی نجات کی سچی طلب ہر سلیم الفطرت کے قلب میں موجود ہے اس کے حصول کے واسطے لوگ کیسے بھول بھولیّاں میں پڑے ہیں۔یہود نے تو یقین کر لیا ہم ابراہیمؑ راستباز کے فرزند ہیں صرف اسی رشتہ کے باعث نجات پا جائیں گے جیسے کہتے ہیں۔(البقرۃ:۸۱) عیسائی تو ایسی حالت میں جاپڑے کہ اپنی ساری لعنتوں ملا متوں کے بدلہ میں حضرت سید نا مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام کو معاذاللہ ملعون بنا یا۔(دیکھونامہ گلتیاں۳باب ۱۳۔) اور بعض نے مع بعض آریہ ورتی سادھوئوں کے رہبانیت اختیار کی۔آریہ جو گھبرائے اور بھولے تو تناسخ کے قائل ہو کر ابدی نجات کے ہی منکر ہو بیٹھے۔اور بعض آریہ ورتیوں نے تو اپنی نجات کے واسطے باری تعالیٰ کو سؤر اور کچھ اور مچھ تک او تار لینے والا مان لیا۔ایسے لوگوں کے واسطے ضرور تھا کہ ایک زبردست ملہم والہام آوے جو ان لوگوں کو ان عظیم الشان غلطیوں سے بچاوے یاآگاہ تو کر دے اور وہ ہمارا ہادی اور ہمارا قرآن تھا۔جس نے ان بطلانوں کا بطلان فرمایا۔غرض ایسی ضرورت کی نسبت فرمایا۔(النمل:۷۷) (النحل:۶۵) (الطارق:۱۴،۱۵)