خطابات نور — Page 578
ڈال دو گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کو ہلاکت سے بچاتاہے مخلوق الٰہی سے احسان کرنے کے نتائج و ثمرات کے قصے میں تمہیں کیا سنائوں اور کہاں تک سنائوں ان سے تو ایک کتاب بنتی ہے تا ہم میں تمہیں دو گواہیاں سناتا ہوں اور اگر اپنی شہادتیں سنائو ں تو کہو گے باتیں بناتا ہے (نعوذ باللہ من ذالک۔ایڈیٹر) رابعہ بصری کے پاس ایک مرتبہ بیس مہمان آگئے۔ان کے گھر میں اس وقت صرف دو روٹیاں تھیں انہوں نے سوچا کہ ان دو روٹیوں سے ان مہمانوں کو تو کچھ بھی نہ ہو گا بہتر ہے کہ اللہ سے سودا کر لوں۔اتنے میں کوئی سائل آیا اور انہوں نے وہ دو روٹیاں اپنے نوکر کی معرفت اس کو دے دیں۔نوکر حیران ہواکہ دو بھی ہاتھ سے دے دیں۔مگر رابعہ جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے(الانعام:۱۶۱) کاوعدہ کیا ہوا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک خادمہ کھانا لے کر آئی کسی بیوی نے ان کے گھر میں بھیجا تھا۔رابعہ نے اس خادمہ سے پوچھا کہ کتنی روٹیاں ہیں اس نے کہا ،۱۸۔تب رابعہ نے کہا لے جائو۔یہ میری نہیں ہیں۔انہیں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان تھا کہ دو کی بجائے بیس آنی چاہئیں۔غرض وہ خادمہ جب لوٹ کر گئی تو اس کی مالکہ نے اسے ڈانٹا کہ تو اتنی دیر کہاں رہی میں نے رابعہ کے گھر کھا نا بھجوانا تھا۔اس لونڈی نے وہ قصہ سنا یا تو مالکہ نے کہا کہ وہ حصہ تو رابعہ کا نہ تھا۔پھر و ہ بیس روٹیاں لے کر گئی تو رابعہ نے لے لیں اور ان مہمانوں کو کھلادیں جس سے وہ سیر ہو گئے۔بعض جگہ ایک روٹی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ ایک آدمی مشکل سے کھا سکتا ہے۔میری خالہ اتنی بڑی روٹی پکاتی تھیں کہ محلہ میں بانٹ دیتے۔غرض رابعہ جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے (الانعام:۱۶۱) وہ لونڈی اس راز سے آگا ہ نہ تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ کرشمہ دکھادیا۔ایسا ہی ایک شخص کو پھانسی کا حکم ہوا اسے ایک آدمی راستہ میں ملا تو اس نے اس کو دو پیسے کا سوال کر دیا اس نے اس کو دو پیسے دے دیئے۔سپاہیوں نے بھی تعرض نہ کیا وہ جانتے تھے کہ اب تو اس کو پھانسی کی سزا ہو گئی ہے۔آگے نان بائی کی دوکان تھی وہاں سے اس نے دو پیسہ کی روٹی خرید لی جب اور آگے گئے تو اس کے کان میں ایک سوالی کی آوازآئی۔