خطابات نور — Page 575
ایک ہزار کسی اور دوست سے لے کر غرق کرو۔غرض لوگ صحیح اور دردِ دل سے دیئے ہوئے مشورہ کو تو مانتے نہیں اور اپنی خیالی تجویز وں پر اڑے رہ کر نقصان اٹھاتے ہیں۔یہ اٹکل بازیاں بھی لغو ہیں اور کامیابی کی راہ میں روک ہیںان کو چھوڑ دو کیونکہ مومن لغو سے بچتا ہے۔اسی طرح میں نے ایک دوست کو کہا کہ یہ کام کر لو مجھے کہنے لگا کہ اعلیٰ پیمانہ پر تجارت کروںگا۔میں نے کہا کہ تجارت تو ایک علم ہے تم اس سے ناواقف ہو۔مگر پرواہ نہ کی۔تجارت فی الحقیقت ایک علم ہے۔میں نے عربی میں ایک کتاب پڑھی جوکسی ماہر ایم۔اے نے لکھی ہے وہ کہتا ہے کہ پانچ برس تک میں ایک کوٹھی میں تجارت کرتا رہا۔تب سمجھ آئی کہ تجارت کیا چیز ہے ؟یہ ایک بڑا کارخانہ ہے اب میں دنیا کے ہر جگہ سے مال منگوا سکتا ہوں اور میں بھلے مانس اور بد معاش دیانتدار اور بد معاملہ تاجروں کو جانتا ہوں۔پس جب تک اس علم سے انسان واقف نہ ہو تجارت کے اعلیٰ پیمانہ پر کرنے کی تجویزیں اور منصوبے لغویات ہوں گے۔اس لئے تم یاد رکھو کہ کامیابی اور مظفر و منصور ہونے کے لئے دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ مومن لغویات سے بچتا رہے ایسا ہی ایک قسم لغو کی یہ بھی ہے کہ جب کوئی بات کہی جاوے تو اس پر بد ظنی کر کے عمل نہ کیااور اپنی ہواوہوس کے ماتحت ہو کر ایک بات کر لی اور جب کہا گیا توہنس کر کہہ دیا کہ غلط فہمی ہو گئی اس قسم کی باتوں سے پرہیز کرو۔جب تک لغویات سے نہیں بچتے ہو کامیابی اور فتح مندی تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی۔خلاصہ یہ ہو ا کہ مومن کی دوسری شان یہ ہے کہ لغویات سے بچے۔جیسے نطفہ مضر اشیاء سے بچتا ہے۔مومن نمازیں پڑھتا ہے اور نمازوں میں خشوع سے کام لیتا ہے اور پھر لغویات سے بچتا ہے کیونکہ اگر وہ لغویات سے نہ بچے تو جنابِ الہٰی سے تعلق نہیں ہوتا۔ایک بات اور یاد رکھو دنیا کا ایک عام نظارہ ہے کوئی پھل ،پَتّا، درخت، ٹہنی اللہ تعالیٰ نے لغو پیدا نہیں کی۔(آلِ عمران:۱۹۲)بلکہ حق وحکمت سے بھر پور ہے۔جن لوگوں نے حق وحکمت کی اس مخلوق سے کام لیا انہوں نے مالی اور مادی فائدہ اٹھایا۔یہ مضمون بھی وسیع ہے اور تمام علوم پر حاوی ہے۔دیکھو ایک قوم نے ان تمام اشیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں