خطابات نور — Page 576
حقائق کے رنگ میں دیکھا اور ان کے خواص وصفات معلوم کر کے کس قدر فوائد ان سے حاصل کئے۔آئے دن کی ایجادات اور مادی ترقیاں اسی کا نتیجہ ہے اور وہ تمام دنیا پر حکومت کر رہی ہے۔لیکن جنہوں نے انادی سمجھ کر چھوڑ دیا وہ مفلس اور محکوم ہے۔پس جہاں تم لغو سے اعراض کر و وہاں حقائق الاشیاء کو ترک نہ کرو۔اس واسطے جنابِ الہٰی کے حضور جب کہا جاتا ہے لغو سے بچو تو اس کی بڑی بڑی شاخیں یہ سمجھی جاتی ہیں۔خیالات بے جا، بے ہودہ ارادے ، دوست بے ہودہ ، اسی میں بے ہودہ کتابیں بھی داخل ہیں۔بیہودہ دوست اسی طور پر دوست بنتے ہیں کہ انسان سمجھتا ہے کہ ان کا وجود ہمارے دین دنیا کے لئے مفید ہے لیکن دراصل وہ سخت مضر ہوتے ہیں اور وہ دین ودنیا دونوں کو غر ق کر دیتے ہیں۔میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ تم میں ایمان ہو۔یہ حالت نطفہ سے مشابہ ہے کیونکہ نطفہ تھوڑی سی چیز ہی کو کہتے ہیں پھر جیسے نطفہ رحم سے تعلق رکھتاہے اور اسے آئندہ ترقی اور نشوونما کے لئے ضروری ہے کہ رحم سے تعلق رکھے۔اسی طرح مومن کو جناب الہٰی سے تعلق رکھنا چاہئیے اور وہ تعلق نماز سے قائم رہتا ہے اور نماز میں خشوع ہو تو ترقی کے راستے کھل جاتے ہیں پھر جیسے نطفہ کو اپنے اس تعلق میں (برنگِ علقہ) لغویات سے الگ رہنا چاہئیے ورنہ وہ گر جاتا ہے۔اسی طرح اس مومن کو لغویات سے بچنا ضروری ہے و الّاوہ اس ترقی سے رہ جاتا ہے جس کی طرف وہ ایمانی حالت کے بعد جارہاتھا۔تیسراذریعہ یا گُر نطفہ رحم میں قرار پکڑنے کے بعد علقہ کی صور ت اختیار کر چکنے کے بعد ایک وقت تک بڑھتا رہتا ہے اسی طرح انسان روحانی پیدائش میں ترقی کرتے کرتے آگے چلتا ہے مال بھی انسان کے لئے ایک عجیب چیز ہے اور اس کے معاملات عجائبات سے بھرے ہوئے ہیں۔صرف مال کے متعلق ایک الگ پہلو کی ضرورت ہے جب کسی قوم کے پاس مال آتاہے تو اس کی حالت بدل جاتی ہے۔حضرت موسیٰ ،حضرت مسیح علیہما السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوموں نے کہا افلاس ہے لیکن جب انہیں کثرت اموال ہوئی تو پھر دیکھ لو کیا حال ہوا۔دنیا کی رغبت جب انسان کو پیدا ہوتی ہے تو پھر عجیب و غریب کرشمے دیکھنے میں آتے ہیں۔میں نے تو دنیا کما کر دیکھی ہے مگر اس میں مجھے کبھی مزہ نہیں آیا۔ہر قسم کی سواریاں،