خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 660

خطابات نور — Page 52

اور فیوض کا چشمہ اس کی طرف جاری ہوتا ہے اور ملائکہ کا نزول اس پر ہونے لگ جاتا ہے۔غرض میں اس کیفیت کی گواہی تجربۃً دے سکتا ہوں جو انسان کو خدا تعالیٰ کے ماموروں کے ساتھ تعلق پیدا کرکے ہاں سچا تعلق پیدا کرکے حاصل ہوسکتی ہے۔حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کیفیت کا ایک مرتبہ اس طرح پر اظہار کیا تھا کہ جیسے پانی کی ایک بڑی نالی ہوتی ہے۔مامورمن اللہ اس نالی کی مانند ہوتا ہے اور سچے ارادتمندوں کا اس نالی کے ساتھ اس طرح پر تعلق ہوتا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی نالیاں ایک بڑے لوہے کے نل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں اور جب پانی کے چشمہ سے اس بڑے نل میں پانی آتا ہے تو ان چھوٹی نالیوں میں بھی ان کی ظرف کے موافق اور استعداد کے مطابق وہ پانی گرتا جاتا ہے۔پس چونکہ امام خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو براہ راست حاصل کرتا ہے اس لئے اس سے سچے تعلق رکھنے والے ان برکات کو اس میں ہوکر حاصل کرتے ہیں۔میں اس سلسلہ میں دور چلا گیا۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسماء حسنیٰ کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ اجزا متفرقہ کو مجتمع کرے اس لئے اجتماع لازمی ہے۔ساری گاڑیاں اگرچہ اپنے پہیوں سے چلتی ہیں مگر سٹیم انجن کے بدون وہ پہیے بیکار محض اور نکمے ہیں اسی طرح پر ہمارے اندر بھی جو قرب کی فطری قوتیں اور طاقتیں ہیں وہ سب کی سب بیکاراور نکمی ہیں اگر کسی سٹیم انجن کے ساتھ ہمارا تعلق نہ ہو کوئی شاخ مثمر ثمرات نہیں ہوسکتی جب تک اصل درخت کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہو، کوئی بچہ نشوونما نہیں پاسکتا جب تک ماں کی گود میں نہ ہو۔اسی اصل اوربنا پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔(التوبۃ :۱۱۹) یعنی ایمان باللہ والو! تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ اختیار کرنے کی راہ یہ ہے کہ صادقوں کی صحبت میں رہو۔مجھے اپنے طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ یاد ہے۔جب میں ہندوستان میں تعلیم پاتا تھا تو میرے ایک مہربان تھے جو بڑے ہی پرہیزگار اور صالح آدمی تھے۔ان کا نام شاہ عبدالرزاق تھا۔رام پور روہیلکھنڈ میں رہتے تھے اور یہ سیداحمد بریلوی کے معتقد تھے۔میں عموماً ان کی ملاقات کے واسطے جایا کرتا تھا اور ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ کئی دن تک مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع نہ ملا۔اس غیر حاضری کے بعد جب میں ان کی خدمت میں حاضر