خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 554 of 660

خطابات نور — Page 554

صرف آٹھ سو لفظ ہیں جو کہ نئے ہیں اگر انسان اس کو بھی نہ سمجھے تو لَایَلُومن اِلَّا نَفْسَہٗ۔ایک ہمارے دوست کا بچہ سامنے آگیا ہے وہ اپنے باپ سے کہنے لگا کہ مولوی صاحب عالم ہیں مگر قرآن تو غلط ہی پڑھتے ہیں۔یہ حافظ و قاری باپ کا بیٹا ہے۔قرآن کریم خاص رحمت ہے۔مومن کے لئے کافی ذخیرہ ہے۔ہم تو جب سے پیدا ہوئے ہم کو کوئی شبہ و تردد کبھی ہوا ہی نہیں۔ایک وقت میں نے حضرت مرزا صاحب ؑ سے دریافت کیا تھا کہ مقابلہ کے وقت قرآن کے بعض مشکلات ہوتے ہیں ان کا کیا کیا جائے ؟ کہنے لگے تم نے کیا سوچا۔میں نے کہا یا تو ان کا ذکر ہی چھوڑ دیا جائے یا الزامی جواب دے کر ٹال دیا جائے ہنس کر کہنے لگے کہ جو بات خود نہیں مانتے دوسروں کو کیوں منواتے ہو۔پھر فرمایا ہم تم کو ایک گُر بتائیں جو سوالات تم کونہیں آتے ان کو خوشخط لکھ کر جہاں تمہارا زیادہ گزر ہے وہاں لٹکا دو تاکہ بار بار اس پر نظر پڑے خدائے تعالیٰ خود ہی سمجھا دے گا۔میں نے اس کا مطلب صوفیانہ رنگ میں لے لیا کہ دل میں لٹکاتے ہیں یعنی ان سوالات کا ہر وقت تصوررکھیں گے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سب سوالات سمجھا دئے جو میری تصانیف میں بھی موجود ہیں۔مجھ کو خدائے تعالیٰ نے دو علم بخشے ہیں ایک قرآن کا اور دوسرا طب۔اب تو میری بیوی نے بھی طب سیکھ لی ہے اب ہم دو کمانے والے ہو گئے۔۴۵،۴۶ برس میں طب کے پیشہ کو کیا طب کا ۲۰؍۱حصہ میرے حصہ میں آیا پھر بھی معقول گذارہ ہم کو مل جاتا ہے۔اس ۴۶ برس میں ایک بھی نسخہ مجھ کو ایسا نہیں ملا جس کے چھپانے کی ضرورت ہوئی ہو۔کوئی نسخہ ملا ہی نہیں جس کو حیض کی طرح چھپائوں۔ہاں کسی خاص بیمار سے خاص وقت میں ایک نسخہ چھپانا اور بات ہے اسی طرح خدائے تعالیٰ نے قرآن مجھ کو دیا۔اس میں بھی کوئی چھپانے والی بات نہیں۔پھر جو گُر مجھ کو حضرت صاحب نے بتایا وہ میں کہہ آیا ہوں۔میں نے دل پرخوشخط لکھ کر لٹکا لیا۔کچھ دنوں کے بعد ایسا انشراح ہوا کہ ۔کی تفسیر میری کتابوں میں دیکھو یہ اسی ترکیب کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہے پھر اس کے بعد مجھ کو خدائے تعالیٰ نے الہام کیا کہ اگر کوئی منکر قرآن ، قرآن پر تجھ سے اعتراض کرے اور تجھ کو نہ آتاہو تو ہم اسی وقت تجھ کو اس کا مطلب بتادیں گے۔ہمارا معلم خدائے تعالیٰ ہے ہمیں کس کا ڈر ہو سکتا ہے۔دھرمپال نے جب ترکِ اسلام کتاب لکھی تو اس میں اس نے مقطعات قرآنیہ پر