خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 555 of 660

خطابات نور — Page 555

اعتراض کیا ہے۔میں چھوٹی مسجد میں مغرب کی سنتیں پڑھ رہا تھا ایک سجدے سے سر اٹھایا میں نے کہا۔مولا! گو وہ سامنے نہیں مگر کتاب تو اس نے بھیجی ہے۔پس دوسرے سجدے میں جانے سے پہلے پہلے یعنی دونوں سجدوں کے درمیانی وقفہ میں سارے مقطعات قرآنی کا علم مجھ کو دیا گیا۔میںنے جب لکھا تو میں خود بھی حیران تھا کہ میں نے اس کا ایساجواب لکھا کہ کسی نے آج تک ایسا نہیں لکھا۔میں تکبرنہیں کرتا، ریا نہیں کرتا یہ لعنتی کا کام ہے۔میری غرض تم کو سمجھانے کی ہے قرآن کو کبھی مشکل نہ سمجھو۔اگر دشمن کوئی اعتراض کرے تو اس کو لکھ کر لٹکا لو خدائے تعالیٰ ایسا علم عطا کرے گا کہ وہ دشمن لاجواب اور خاموش ہو جائے گا۔جموں میں مجھ سے ایک آدمی نے حدیث نزول الربّ کی بابت سوال کیا کہ زمین گول ہے اور کہیں نہ کہیں رات ہر وقت ہوتی ہے تو نزول ربّ بھی ہر وقت ہوا پھر (طٰہٰ:۶)سے کیا مطلب ہوا ؟میں نے کہا پانچ سات روز کے بعد جواب دیں گے۔اس نے کہا اچھا سات روز کے بعد ہی آپ جواب دیں۔جُوں جُوںدن گزرتے میرا دل دھڑکتا۔بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ قبل از روز مقرر یاغستان کے ملک سے بذریعہ ڈاک میرے پاس ایک کتاب آئی اس کو کھولا تو وہ اسی حدیث کی شرح تھی اور بڑے ہی فلسفیانہ مذاق کی تھی۔میں نے اس کو پڑھا تو اس معترض کے تمام سوالا ت اُڑ گئے۔وہ معترض آیا کہ کیوں صاحب تیار ہو گئے ؟میں نے کہا ہاں تیار ہیں تم بھی تیار ہو جائو۔میں نے جب اس کے سامنے بیان کرنا شروع کیا تو ابھی اس کتاب کا دو تین ہی صفحہ کا مضمون ادا ہوا تھا کہ وہ کہنے لگا۔بس میری تسلی ہو گئی اب آپ اور زیادہ بیان نہ فرمائیں۔میں نے کہا میں تو بڑا لمبا بیان کرنے کو تھا۔بعد میں مَیں نے وہ کتاب چھپوا دی۔مَیں نے یہ بات خدائے تعالیٰ کے فضل کو بیان کرنے کے لئے کہی ہے۔خدائے تعالیٰ بڑا قادر ہے وہ جب بندے کو سکھاتا ہے دیوار سے آواز آ جاتی ہے۔ستون سے آواز آجاتی ہے۔ایک مرتبہ میں ایک شہر میں تھا میرے پاس ایک پیسہ تک نہ تھااوربھوک بھی بہت لگی۔عشاء کا وقت ہو گیا ، میں نماز کے لئے مسجد کو چلا۔ایک سپاہی نے راستہ میں مجھ سے کہا کہ ہمارے آقا بُلاتے ہیں۔میں نے کہا میں تمہارے سردار کے پاس اس وقت تو نہیںجاسکتا۔اس نے کہا کہ میں تو سپاہی آدمی ہوں میرے آقا نے آپ کو بلایا ہے۔آپ خوشی سے نہ جائیں گے تو میں