خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 547 of 660

خطابات نور — Page 547

(اٰل عمران :۱۰۵) کچھ آدمی بنائو جو نیکی کی طرف لوگوں کو بلائیں جب تک ایسی جماعت تم میں نہ ہو کچھ فائدہ نہیں۔تم کو ملالت نہ ہو اس واسطے اس تقریر کو ادھورا ہی چھوڑتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کی توفیق دے کہ قرآن کریم تمہارا دستور العمل ہو، اللہ تعالیٰ کو رضامند کرنے میں خوب کوشاں رہو۔تمہارا خاتمہ اسی میں ہو مجھ کو کوئی دنیا کی غرض نہیں۔تم کو بہت سے درد سے سمجھاتا ہوں اگر وقت اور ہوتا تو یہ رکوع پورا کرتا۔ہاں! ایک بات اور بھی ہے میں نے سنا ہے کہ لاہور میں لیکچر ہوئے ہیں عیسائیوں نے اس پر زور دیا ہے کہ ہماری سلطنت بڑھنے کا سبب اتباع انجیل ہے۔میں نے انجیل کو دیکھا ہے اسی میں یہ نکتہ حل کیا ہوا ہے کہ شیطان نے حضرت مسیح سے کہا کہ اگر تم مجھ کو سجدہ کرو گے تو میں تم کو دنیا کی تمام سلطنتیں دے دوں گا۔حضرت مسیح نے کہا کہ میں نہیں لیتا تو دور ہو جا۔معلوم ہوتا ہے کہ یورپ والوں نے اس نکتہ کو سمجھ لیا ہے اور شیطان کے آگے سجدہ کر کے وہ سلطنتوں کے مالک ہو گئے ہیں۔پھر انجیل میں لکھا ہے کہ اونٹ اگر سوئی کے ناکے سے نکل جائے تو یہ ممکن ہے مگر یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں دولتمند کا گزر ہو۔پھر ایک اور جگہ مسیح نے فرمایا کہ تم اپنا خزانہ زمین پر نہ رکھو آسمان پر سارا خزانہ رکھو وغیرہ ان یورپین نے دیکھا کہ یوں تو بات نہیں بنتی۔شیطان کو سجدہ کرنے سے کام چل جاتا ہے۔مسیح کی تعلیمات کے خلاف تمام معاہدات کو توڑ کر عمل کرنا شروع کر دیا۔انجیل کی اسی قسم کی چند آیتیں جمع کر کے ایک چھوٹا سا ٹریکٹ نکل جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ مفید ہو گا۔(البدر ۳۰؍جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ تا ۸)