خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 537 of 660

خطابات نور — Page 537

وہ کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتا ہوں پھر کہا کہ آپ مجھ کو جانتے ہیں میں نے کبھی کوئی بدی نہیں کی اور ساری عمر نہیں کی لیکن مجھ کو کبھی الہام نہیں ہوا اور مرزا صاحب کو الہام ہو گیا۔میں یہ سن کر کچھ دیر چپ رہا اور دعا مانگتا رہا کہ مولا اس کو کیا جواب دوں۔پھر میں نے عرض کیا کہ آپ ہم میں کیسا نیک نمونہ ہیں کہ ہم آپ کے لنگوٹیا یار ہیں اور پھر بھی آپ کا کوئی عیب نہیں بتا سکتے۔اب بتائیں آپ نے کبھی نماز میں الحمد شریف پڑھی ہے؟ کہا روز۔میں نے کہا اس میں آپ نے  (الفاتحۃ :۶،۷) پڑھا انہوں نے کہا ہاں۔میں نے کہا کیا کوئی منعم علیہم ہیں؟ کہا ضرور ہیں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ ان سے باتیں کرتا تھا اور آپ سے نہیں کرتا؟ کہنے لگے بھلا ہم بدکاروں سے اللہ تعالیٰ کب بات کرتا ہے۔میں نے کہا تو آپ بدکار ہیں؟ ہم کو تو علم نہیں تھا۔کہا بندہ گنہگار سیہ کار ہے۔میں نے کہا تو آپ ایسے بدکار اور سیہ کار ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے باتیں نہیں کرتا۔آپ نے اللہ تعالیٰ پر بدظنی کی اور یہ کہ آپ نے تمام نیکیاں کیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ نہیں بولا گویا وہ ظالم ہے۔آپ نے تو بڑا ظلم کیا کہ اللہ تعالیٰ پر بدظنی کی پھر وہ کس طرح بولتا۔کہا ہاں یہی سبب ہے۔میں نے کہا تو پھر قصور تو آپ ہی کا ہے۔ملائکہ اسباب الٰہی میں سے ایک سبب ہیں اور کتب الٰہیہ انسان کو آگاہ کرنے کے لئے بھیجی گئی ہیں اور انسان کو سچائی سمجھانے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔(اٰل عمران :۱۰۳) حق تقویٰ کا ادا کرو۔اللہ تعالیٰ کی ذات پاک مقدس مطہر عیب سے بری ہے۔وہ یکتا ہے۔اپنے اوصاف ومحامد میں بے ہمتا ہے۔اللہ جلشانہ کے افعال وعبادات وتعظیمات میں کوئی بھی شریک نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے۔میری تحقیقات اور سمجھ نے جہاں تک کام دیا ہے قرآن کریم جیسی کتاب میں نے نہ دیکھی نہ سنی اور نہ کسی منہ سے کوئی چیز ایسی مجھ تک پہنچی۔ایک مشہور برہمو یہاں آئے میں نے ان سے کہا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ کہا کہ ہر ایک مذہب کی اچھی بات ہم لے لیتے ہیں۔میں نے کہا بڑا اعلیٰ سے اعلیٰ اصل آپ کا کیا کیا ہے؟ کہا دعا اور یہی تمام مذاہب میں بڑی اعلیٰ چیز ہے۔میں نے کہا آپ نے تمام مذاہب کی دعائوں کا انتخاب