خطابات نور — Page 533
طاقت رکھتا ہے، ویل مچھلی کو قابو میں لاتا ہے۔میں نے اپنی آنکھ سے وہ لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے شیروں کو اس طرح قابو کیا ہے کہ شیر کو بھوکا رکھ کر اس کے منہ میں حلق تک اپنا ہاتھ ڈال دیا۔بھلا مجال ہے کہ وہ منہ بند کرے۔میں نے اس شخص سے کہا کہ کمال کیا ہے؟ اس نے کہا کمال کیا انسان ہی جو ہے ہاتھی کو انگوٹھے کے اشارے سے چلاتا ہے، اونٹوں کو نکیل کے ذریعہ سے، بھینسے اور بیل کو قابو میں لا کر ناک میں رسی ڈال دی ہے۔مجال ہے جو ہل سکے۔یہ انسان کی حالت ہے۔(التین :۵) کیسا قوام بنایا ہے اور کیسی طاقت دی ہے۔اب انسانوں میں کیسا تفاوت ہے۔یہاں بہت تھوڑے سے آدمی ہیں مگر دیکھ لو آواز، چہرے، بال، پگڑی، لباس، خوراک سب کی جدا جدا ہے۔اللہ کی شان ہے اور یہ اس کا نشان ہے کہ تمہاری زبان اور رنگ کا آپس میں اختلاف ہے۔قرآن کریم میں ہے (الروم :۲۳) پھر فرماتا ہے۔ (البقرۃ : ۲۱۴)اس کا ترجمہ میری سمجھ میں یہی ہے کہ سب آدمی ایک جماعت ہیں جس طرح تمام دنیا کی اشیاء کی جماعت بندی ہے انسان بھی ایک جماعت ہے۔اس میں مومن، کافر، مسلمان، شریر سب ہی ہیں صلح جو بھی ہیں شرارت پیشہ بھی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا ہے قریش میں امام ہیں شریروں کے شریر او ر خیار کے خیار۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا سمجھانے والا، ابوجہل جیسا انکار کرنے والا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے تیرہ برس تک کیسے کیسے دلائل اور سلطان سنے مگر اس کے دل پر ذرا بھی اثر نہ ہوا۔ایک دفعہ ایک نوجوان نے مجھ سے کہا کہ میں مصر جانا چاہتا ہوں تا کہ وہاں جا کر عربی سیکھوں اور پھر دین سیکھوں کیونکہ ہمارا دین عربی میں ہے اور بغیر عربی کے دین نہیں آسکتا۔میں نے کہا تم ابوجہل سے بڑھ کر زبان دان نہیں بن سکتے۔مصر جائو۔روم میں جائو یا شام میں ابوجہل کو جیسی عربی زبان آتی تھی ویسی تم کو نہ آئے گی لیکن ابوجہل مسلمان نہ ہوا۔یہ دنیا کے عجائبات ہیں سب لوگ ایک جماعت ہیں پھر باوجود یکتائی کے کس قدر تفاوت اور فرق ہے کوئی اس کو بیان نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے منکر بھی دنیا میں موجود ہیں۔لاہور میں ان کی ایک باضابطہ جماعت ہے ایک اخبار بھی نکلتا ہے۔ایک مذہب ایسا ہے وہ