خطابات نور — Page 532
بہت رہتے ہوں چھوڑنا ضروری سمجھتا ہے۔نشیب میں بیماریاں بہت ہوتی ہیں۔اسی طرح جہاں موذی جانور بہت رہتے ہوں وہاں بھی بیماریاں بہت ہوتی ہیں۔اسی طرح جہاں ہوا کا گزر کم ہے یا جو مکان تنگ و تاریک ہے بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔اس کے لئے مختصر ضروری، متفق علیہ علاج اونچی جگہ جہاںہوا مصفّا ہو، موذی جانوروں کا گزر کم ہو، رطوبت کم ہو، روشنی خوب ہو، یہ بڑے ضروری امور ہیں۔موٹی سی ایک مثال اس وقت میرے خیال میں آئی ہے میں نے اپنے گھر کے بہت سے حصہ میں پکّا فرش رکھوایا ہے۔جن کوٹھوں میں اور مکان کے جس حصہ میں میں زیادہ تر رہتا ہوں وہاں پکا فرش ہے گو دیواریں کچی ہیں۔میں اکثر ان کو صاف کراتا رہتا ہوں مگر ہر روز ایک حصہ مٹی کا جس کو ہمارے یہاں کلر کہتے ہیں جھاڑو دینے والی نکالتی ہے۔میں نے اس سے سوال کیا یہ کہاں سے آجاتا ہے؟ اس نے کہا ہر ایک چیز اسی طرح ہو جاتی ہے۔اسی مٹی کو جب تنگ وتاریک جگہ سے نکال کر کھیت میں ڈالتے ہیں جہاں عمدہ ہوائیں چلتی ہیں۔چار پانچ روز کے بعد وہ ایسی عمدہ زمین ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات دل چاہتا ہے کہ اللہ! تیرے آگے سجدہ کروں اور یہاں میں نماز پڑھ لوں۔وہی جگہ ایک ہفتہ پہلے ایسی ناپاک تھی کہ اس کے پاس سے بھی گزرنا ناگوار تھا۔یہ کیسی سیدھی مثال ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ مرغیوں، بطخوں کے رہنے کے مقام اور جہاں ہمارے گھریلو جانور گائے، بھینس، گھوڑے وغیرہ رہتے ہیں وہاں قسم قسم کی نجاستیں جمع ہو جاتی ہیں۔جہاں مصفا ہوا اور کھلے میدان میں اس کو رکھا وہی حصہ بڑا عمدہ بن جاتا ہے۔اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس قدر کوئی عمدہ چیز سے تعلق پیدا کرتا جاتا ہے اس کا نقص گھٹتا جاتا ہے۔قرآن کریم میں جناب الٰہی نے جب انسان کی بناوٹ پر ذکر فرمایا ہے تو فرمایا ہے (المؤمنون :۱۳) یعنی تم کو خلاصہ در خلاصہ بنایا ہے۔جب انسان کھانا کھاتا ہے اس میں سے بڑا حصہ ناپاکی کا علیحدہ کیا جاتا ہے۔پیشاب الگ کیا جاتا ہے۔قسم قسم کی بھاپ، پسینے، کان، آنکھ، ناک، منہ وغیرہ سے فضلے نکل کر کہیں کا کہیں خلاصہ بن کر آدمی کا نطفہ بنتا ہے۔پھر ماں کے پیٹ میں بڑے تغیرات آتے ہیں۔پھر وہ بچہ بنتا ہے انسان کا بچہ بنتا ہے۔پھر ممکن ہے کہ وہ مسلم ہو اور ممکن ہے کہ وہ کافر ہو، دہریہ ہو۔پھر کیسا عظیم الشان بن جاتا ہے۔دریائوں کے چیرنے کی طاقت رکھتا ہے، پہاڑوں کو اڑانے کی