خطابات نور — Page 531
قرآن کو دستور العمل بنائو۔دین کو دنیا پر مقدم کرو { تقریر فرمودہ ۲۵ ؍ دسمبر ۱۹۱۲ء بعد نماز ظہر بمقام مسجد اقصیٰ قادیان } جلسہ کے موقع پر یہ حضرت صاحب کی پہلی تقریر ہے جسے مخدومی اخویم محمد اکبر شاہ خان صاحب نے ساتھ ساتھ لکھا تھا اور اب صاف کیا ہے۔چھپنے سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح کو اس کا مسودہ دکھلا لیا گیا ہے اور میں خان صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایسا عمدہ اور صحیح لکھا ہے کہ حضرت نے بہت کم کہیں درست کیا ہے۔( ایڈیٹر البدر) اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (آل عمران: ۱۰۳ تا ۱۰۵) یہ آیت شریفہ جس کو میں نے پڑھا ہے چوتھے پارہ اور دوسری سورۃ آل عمران میں ہے۔میرے خیال میں اس وقت اس آیت کے پڑھنے کی ضرورت ہے اور اس میں ایک علاج لکھا ہے۔اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔اس ضرورت کے خیال پر میں نے بھی اس آیت کریمہ کو پڑھا ہے۔یہ بات تو تم جانتے ہو کہ پاک مقدس نیک آدمی کبھی ناپاک اور غیرمقدس کے ساتھ تعلق نہیں رکھ سکتا۔پلید اور پاک کا تعلق محال ہے۔خدا تعالیٰ ہر ایک عیب، ہر ایک نقص اور ہر ایک بدی سے پاک ہے۔پس جہاں تک کوئی نقصوں کو دور کرتا چلا جائے اسی قدر بے نقص سے قرب حاصل کر سکتا ہے۔وہ انسان جو تندرستی کا طالب ہے ایسی جگہ کو جو نشیب اور رطوبت والی ہو اور جہاں موذی جانور