خطابات نور — Page 526
میرا میاں شاید اسے پڑھا کرتا ہے مجھے اور بھی حیرانی ہوئی پر میں نے سوچا کہ اسے کسی نہ کسی طرح ضرور سمجھانا چاہیے اس لئے میں نے بات کو اس طرح سے چلایا۔میں نے کہا کہ بھلا بتلائو تو زمین اور آسمان کو کس نے بنایا؟ اس نے کہا بنانے والے جانتے ہوں گے مجھے تو ان کے بنانے والا کبھی ملا نہیں۔اب میری حیرانی کی کوئی انتہاء نہ رہی اور میں نے کہا کہ بھلا اب اسے میں کس طرح سمجھائوں الغرض مجھے ایک اور بات سوجھی اور میں نے کہا کہ اچھا مرزا کو تم نے سو روپیہ کیوں دیا؟ اس نے کہا کہ میرا میاں کہتا ہے کہ وہ اچھے آدمی ہیں یہاں بھی میرے علم نے کام نہ کیا۔پر میں نے پوچھا کہ تم ان کو کیا سمجھتی ہو اس نے کہا کہ مجھے کیا خبر مجھے تو وہ آدمی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایک اور آدمی سے میں نے پوچھا کہ بھائی کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں کس طرح اس عورت کو سمجھائوں؟ یہی حالت اب مسلمانوں کی ہے ایک سو روپیہ تو نذر کا دیا پر عقل یہاں تک کہ اتنی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ بیٹی بھی اولاد ہوا کرتی ہے۔پھر میں نے اس عورت کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے جو کچھ کیا اچھا کیا پر حضرت صاحب لڑکی کا لڑکا تو نہیں بنا سکتے۔تم کو اس سے زیادہ کیا نصیحت کروں کہ مسلمان بنو اور قرآن کریم کی اتباع سے وہ تمام منافع حاصل کرو جو اصحاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کئے۔بعض کہتے ہیں کہ ہم تو سب کچھ مانتے ہیں۔قرآن کریم کو مانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مانتے ہیں۔اسی لئے ہم کسی کی بیعت کرنا پسند نہیں کرتے نہ ہم کو کسی سے ارادت کی حاجت ہے ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک درخت ہو اس کی کسی شاخ کو کاٹ کر پانی میں ڈال دو۔مگر وہ کسی جڑ سے وابستہ نہ ہو اگرچہ وہ شاخ پانی میں رہے گی ہر طرح سے اس کی حفاظت کا سامان مہیا ہو گا مگر وہ ہر روز خشک ہوتی رہے گی وہ ممکن نہیں کہ نشوونما پا سکے اور پتوں اور پھل والی بن سکے۔ہمیں ایک نہ ایک امام اور پیش رو کی ضرورت ہے۔دنیا اور اس کے کارخانے پر غور کرو۔ہر گھر میں ایک بااثر شخص ہوتا ہے ہر محلہ میں ایک چودھری ہوتا ہے۔ہر گائوں میں ایک نمبردار اور ایک ذیلدار ہوتا ہے۔ہر کمیٹی کا ایک پریزیڈنٹ ہوتا ہے اور اللہ کریم نے حکام کے اوپر حکام بنائے۔فرض کرو کہ ایک شخص ایک جرم کرتا ہے اس کے جرم کرنے کے موقع پر صاحب ڈپٹی کمشنر موجود ہیں۔کیا صاحب بہادر اس مجرم کو اس