خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 509 of 660

خطابات نور — Page 509

۔یہ وقت عصر کا ہے اوردن کا آخری حصہ ہے اور میں اس سورہ شریف کو عصر کے وقت شروع کرتا ہوں۔اس نظارہ نے مجھے ادھر ہی متوجہ کردیا کہ شاید اتنے وقت میں پوری ہوجاوے جو سورج غروب ہو۔عصر کے معنی : اس سورۃ کے ابتداء میں عصر کا لفظ آیا ہے۔عصر مطلق زمانہ کا نام ہے۔ہماری زبان میں بھی یہ لفظ ان معنوں پر بولاجاتا ہے۔فلاں میرا ہمعصر ہے۔اخبار نویس بھی یہ لفظ بولتے ہیںوہ کہتے ہیں ہمارے عصر نے یہ لکھا ہے۔غرض زمانہ کو بھی عصر کہتے ہیں۔پھر عصر نچوڑنے کو کہتے ہیں۔(یوسف:۳۷) عصر اس حصہ کو کہتے ہیں جو ظہر کے بعد نماز کے لئے مقرر ہے۔یہ وہی وقت ہے جس کی ابھی نماز پڑھی ہے۔پس عصر کے تین معنی ہیں۔زمانہ، نچوڑنا اور بعد ظہر نماز کا وقت۔قسمہائے قرآنی کی حقیقت : قرآن کریم میں جہاں بڑے بڑے عجائبات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض سورتوں کے شروع میں اوربعض کے درمیان قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔میں نے قرآن مجید کی ان قسموں پر بڑا غور کیا ہے تو میں نے یہ پایا ہے کہ قرآن مجید کی قسمیں معجزانہ رنگ رکھتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔عوام، پھر ان سے بڑھ کر سمجھدار پھر ان سے بھی بڑھ کر حکومت پیشہ لوگ۔عوام میں یہ بات مشہور ہے (اگرچہ اس زمانہ میں اس کے خلاف ثبوت موجود ہے) کہ قسم کھانا جھوٹوں کا کام ہے۔پڑھے لکھے نو تعلیم یافتہ بھی کہتے ہیں کہ سویلزیشن کے خلاف ہے، بیہودہ امر ہے۔بہت قسمیں کھانے والے کا اعتبار نہیں کرتے۔قرآن مجید میں بھی ایک جگہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ (القلم: ۱۱) مگر باوجود اس کے قرآن میں قسمیں موجود ہیں۔میری سمجھ میں ان قسموں میں کچھ حصہ عوام کا ہے کچھ خواص کا اور کچھ حکام کا ہے۔عرب میں اس جہالت کا دور دورہ تھا ان کا اعتقاد تھا کہ قسم ذلیل کردیتی ہے۔ان میں ایک ضرب المثل یا کہاوت تھی۔کہاوت یا ضرب المثل ایک فقرہ ہوتا ہے جو بڑے تجربوں کا نچوڑ ہوتا ہے۔وہ ضرب المثل جوعربوں میں قسم کے متعلق تھی یہ ہے۔ان الاَیمان تدع الارض بلاقع۔